برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی — Page 23
سننببننبسسسسنننة طانوی پلان اور ایک فرضی کہانی بہر حال ایک چیز تو واضح تھی اور وہ یہ کہ تمام مسلمانوں کیلئے ناممکن تھا کہ وہ ہجرت کر کے کسی دوسرے ملک چلے جائیں۔ان پر یہ بات بھی واضح تھی کہ انگریزوں کی فوجی طاقت اس قدر زیادہ ہے کہ ان سے لڑ کر انہیں یہاں سے نکالنا بھی اب ناممکن ہو گیا تھا۔مغل سلطنت کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے بعد ان کے لئے ملازمتوں کا حصول بھی مشکل ہو گیا تھا لہذا اب ملازمتوں کی تلاش میں ہندو اور مسلمان دونوں کمپنی اور مقامی ریاستوں کی جانب رجوع کر رہے تھے۔اس سارے عمل میں مذہبی شناخت انتہائی کمزور ہو گئی تھی کیونکہ مسلمان فوجیوں کو اگر ہندو راجہ کے ملازمت ملتی تو وہ اختیار کرنے پر مجبور تھے اور اگر اسے ہم مذہبوں سے جنگ بھی کرنا پڑے تو اس کے لئے اس میں کوئی جھجک نہیں رہی تھی۔" وو " علماء کیلئے یہ صورتحال ضرور تشویش ناک تھی کہ اگر معاشرے میں اس طرح سے اشتراک ہو جائے گا تو مسلمانوں کی علیحدہ سے کوئی مذہبی شناخت نہیں رہے گی۔ان حالات میں شاہ عبد العزیز دہلوی نے کئی فتوے جاری کئے۔مثلاً انہوں نے مسلمانوں کو اس بات کی اجازت دی کہ وہ کافروں کی ملازمت کریں مگر بحیثیت فوجی کے نہیں تا کہ انہیں مسلمانوں سے جنگ نہ کرنی پڑے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ دوسرے عہدوں اور حیثیتوں میں ان کی ملازمت کرنے میں کوئی حرج نہیں اور ایک مرتبہ جب ملازمت کر لیں تو پھر ان کی وفاداری بھی لازم ہے۔لیکن انہیں اس بات کا ضرور خیال رکھنا چاہیے کہ ان کے کافروں کے ساتھ سماجی اور ثقافتی تعلقات نہ ہوں گے شاہ عبد العزیز نے اس بات کی بھی اجازت دے دی تھی کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملازمت کو اختیار کر لیا جائے ، بلکہ انہوں نے اپنے بھتیجے عبدالئی کو کمپنی کی ملازمت کرنے دی۔اگر چہ سلام سلام برطانومی پلان اور ایک فرضی کہانی اس خبر کو سن کر اس وقت کے مشہور صوفی شاہ غلام علی نے سخت افسوس کا اظہار کیا تھا۔اس پر شاہ عبدالعزیز نے انہیں ایک خط میں اپنے فیصلہ کو صحیح ثابت کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اس قسم کی ملازمت میں نہ تو اس بات کا خطرہ ہے کہ کافروں کے ساتھ تعلقات بڑھیں گے ، نہ ہی ان کی خوشامد کرنا ہو گی۔نہ جھوٹ بولنا پڑے گا اور نہ ہی اسلام کے خلاف کوئی قدم اٹھایا جائے گا۔“ جناب سید ہاشمی فرید آبادی کی فکر انگیز تحریر علماء اور سیاست ، صفحہ ۷۹ تا ۸۱) مورخ پاکستان جناب سید ہاشمی فرید آبادی نے ہندی مسلمانوں کی انگریزوں سے دوستی اور وفاداری کا سب سے بڑا سبب یہ قرار دیا ہے کہ: کرزن کے جانشین لارڈ منٹو (۱۹۰۵ء تا ۱۹۱۰ء ) بہت عنایت سے پیش آئے۔معروضات کی معقولیت ، مسلمانوں کی خصوصی اہمیت کو تسلیم کیا۔وفد کا سب سے اہم مطالبہ یہ تھا کہ شہری اور ملکی مجالس میں مسلمان ارکان کا انتخاب مسلمانوں کی رائے سے ہو اور ان کے لئے جدا گانہ حلقہ انتخاب بنائے جائیں۔وزیر ہند (مورلے ) کے سیاسی عقائد اس مطالبے سے موافقت نہ رکھتے تھے مگر وائسرائے کے اصرار پر وہ بھی مان گیا۔اخبار لنڈن ٹائمز نے ایک مبسوط مقالہ شائع کیا ( یکم اکتوبر ۱۹۰۶ء ) کہ مختلف مذاہب واقوام کے ایسے مجموعے میں جیسا کہ ہندوستان ہے، جمہوری ادارے تعمیر کرنے کے لئے مسلمانوں کی نادر تجویز نہایت مناسب ہے۔تجویز تو شائد کسی انگریز سکرٹری کے دماغ کی کاشتہ تھی لیکن بے شبہ ہند و تعصبات کے ظہور اور مسلمانوں کے ملی محسوسات نے اس کی آبیاری کی نئی سیاسی تجاویز مجھے کے مجھے wwwwwwwwww۔wwwwwwwwwwww اسيس سنس :