برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی

by Other Authors

Page 29 of 29

برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی — Page 29

۵۴ سنسسبسمس هند ہوسکی۔ہاں ایک دل مسلمانوں کی غفلت سے مضطرب ہو کر اٹھا۔ایک مختصرسی جماعت اپنے گرد جمع کر کے اسلام کی نشر و اشاعت کے لئے بڑھا۔اگر چہ مرزا غلام احمد صاحب کا دامن فرقہ بندی کے داغ سے پاک نہ ہوا تا ہم اپنی جماعت میں وہ اشاعتی تڑپ پیدا کر گیا جو نہ صرف مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے لئے قابل تقلید ہے بلکہ دنیا کی تمام اشاعتی جماعتوں کیلئے نمونہ ہے۔“ یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے فتنہ ارتداد اور پولیٹیکل قلابازیاں صفحه ۴۶ تا ۶۰ تالیف مفکر احرار چوہدری افضل حق صاحب گڑھ شنکر مطبوعہ کو اپر سٹوسٹیم پر لیس وطن بلڈنگز لاہور ) یادر ہے جناب چوہدری افضل حق صاحب کا یہ حقیقت افروز بیان ۱۹۳۵ء میں شائع ہوا جس کے چار سال بعد دسمبر ۱۹۲۹ء میں آل انڈیا نیشنل کانگرس کے پلیٹ فارم پر مجلس احرار نے جنم لیا جبکہ یہ لوگ تحریک عدم موالات اور تحریک ہجرت و خلافت میں مسلمانان ہند کو تباہ کن ناکامی سے دو چار کرنے کے بعد اس شعر کے مصداق بنے ہوئے تھے۔بدھو میاں بھی حضرت گاندھی کے ساتھ ہیں گو گرد راہ ہیں مگر آندھی کے ساتھ ہیں یورپ کی روحانی فتح کا آغاز (اکبر الہ آبادی) بيت الفضل لندن کے افتتاح (اکتوبر ۱۹۲۶ء) کے موقعہ پر اخبار ٹائمنر لنڈن نے ۲ اکتوبر ۱۹۲۶ء کی اشاعت کے لیڈنگ آرٹیکل میں لکھا: یہ موقع مسیحیت کے علاوہ دیگر مذاہب کی تاریخ میں ایک بڑا اہم واقعہ -2-0- محمد ہے کیونکہ یہ لنڈن میں سب سے پہلی مسجد ہے“۔برسٹل ایوننگ نیوز“ مورخہ ۲۴ / تمبر ۱۹۲۶ء نے اس موقع پر جماعت احمدیہ کو زبر دست خراج تحسین ادا کرتے ہوئے ریمارکس دئے: یہ مسجد فرقہ احمدیہ نے بنائی ہے جو مذہبی بردباری کی حامی ہے اور تشدد اور مذہبی لڑائیوں کا مخالف ہے۔اس کا ایمان ہے کہ آسمانی علوم کا چشم قرآن شریف میں ہے، سوکھ نہیں گیا بلکہ اب بھی جاری ہے ( ترجمہ ) انگلستان کے متعصب مسیحیوں کے ترجمان بلٹیٹ ٹائمز (BULL TIPPET TIMES) نے لکھا کہ:۔س مسجد کی تعمیر کو ایک چیلنج سمجھنا چاہیے۔مغرب اب تک مشرق کو مذھبا اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرتا رہا ہے مگر افسوس کہ اس نے اپنی طاقت کو اپنے گھر میں ہی کرور کر دیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب مشرق بھی مغرب کی طرف دیکھنے لگا ہے۔اب مسلمانوں کی اذان کا نعرہ اس سرزمین میں سنایا جانے والا ہے۔بلٹیسٹ ٹائمنز نے ان پادریوں پر بھی بھر پور تنقید کی جو خانہ خدا کی تقریب افتتاح میں شامل ہوئے اور انہیں متنبہ کیا کہ اگر عیسائیت کا کوئی حقیقی دشمن - کوئی حقیقی دشمن ہے تو وہ اسلام ہے۔(ترجمہ) (بحوالہ تاریخ مسجد فضل لندن مرتبہ حضرت ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب اسٹنٹ سرجن اشاعت دسمبر ۱۹۲۷ء قادیان) مورخ پاکستان مولانا سید رئیس احمد جعفری نے جماعت احمدیہ کی عظیم الشان اور عدیم النظیر خدمات کا تذکرہ اپنی ایک مشہور تصنیف ”حیات قائد اعظم کے آخر پر ایک شعر میں زیب قرطاس کیا ہے۔میں بھی یہ تاریخی مقالہ اسی شعر پر ختم کرتا ہوں۔کامل اس فرقہ زہاد سے اٹھا نہ کوئی کچھ کچھ ہوئے تو یہی رندان قدح خوار ہوئے