برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی

by Other Authors

Page 22 of 29

برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی — Page 22

: VIEW SA سعبين تلے اس کی کمر ٹوٹ رہی تھی تو اسی وقت یورپ میں پہنی وفکری تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں۔جغرافیائی معلومات بحری راستوں کی دریافت ، نئی سرزمینوں کی تلاش اور نئی تجارتی منڈیوں کے حصول نے یورپی معاشرے کو دور جاگیر داری سے نکال کر دور سرمایہ داری میں داخل کر دیا۔تاجر طبقہ اپنی تجارت کو بڑھانے کی خواہش میں نئی سائنسی وقتی ایجادات میں دلچسپی لے رہا تھا جس کی وجہ سے صنعت و حرفت میں انقلابی تبدیلیاں آرہی تھیں بادشاہ و امراء کے اقتدار میں تاجر طبقہ بھی شریک ہو گیا تھا اور سیاست کا دائرہ کار وسیع ہو گیا تھا۔جب کہ اسی وقت ہندوستان میں مغل حکمران کی مرکزی طاقت وقوت کے خاتمہ کے بعد جگہ جگہ خود مختار گورنر اور حکمران وجود میں آرہے تھے۔قومی بنیادوں پر اٹھنے والی مرہٹہ سکھ اور جاٹ تحریکیں لوٹ مار اور جنگ و جدل کے ذریعے سلطنت کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہی تھیں۔ہندوستان معاشرے کی تمام صلاحیتیں جنگ و جدل اور تحفظ کی تتلاش میں صرف ہو رہی تھیں۔ہندوستانی معاشرو اسی طرح جاگیر دارانہ روایات میں مقید یورپ کی فکری تبدیلوں سے بے خبر تھا جب کہ مغلوں کے عہد سے یورپی سیاح ہندوستان آرہے تھے اور اہل یورپ کو ہندوستان کے بارے میں معلومات فراہم کر رہے تھے۔جو معاشرہ دنیا سے کٹ جاتا ہے وہ تاریخ کی رفتار کا ساتھ نہیں دے سکتا۔ہندوستانی معاشرہ بھی دنیا میں ہونے والی ترقی کی رفتار سے علیحدہ ہو کر پیچھے رہ گیا اس لئے جب انگریز یہاں آئے اور انہوں نے اپنے اقتدار کی راہیں ہموار کیں تو انہیں کوئی دشواری پیش نہیں آئی اور سب سے بڑھ کر یہ بات ہوئی کہ یہ ملک ہندوستانیوں نے فتح کر کے انگریزوں کے حوالے کیا کیونکہ انگریزوں کی فوج میں اکثریت ہند وستانی سپاہیوں کی تھی۔= ۴۱ یہ غلط فہمی بھی بڑی عام ہے کہ انگریزوں نے حکومت واقتدار اور طاقت مسلمانوں سے چھینی اور ان کی سلطنت پر قابض ہوئے۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اور نگ زیب کے بعد سے مسلمان سلطنت تیزی سے زوال پذیر ہوگئی تھی اور جگہ جگہ آزاد اور خود مختار ریاستیں و سلطنتیں وجود میں آگئی تھیں۔اس دور انتشار میں مرہٹہ طاقت انتہائی مضبوط بن کر ابھری اور انہوں نے دکن اور شمالی ہندوستان میں اپنا اقتدار قائم کر لیا یہاں تک کہ مغل بادشاہ عالم ثانی برائے نام حکمران تھا اور مرہٹہ فوج جنرل پیرون کی سربراہی میں حکومت کر رہی تھی۔جب ۱۸۰۳ء میں لارڈ لیک نے دہلی کو فتح کیا تو اس نے مغلوں کو نہیں بلکہ مرہٹوں کو شکست دے کر دہلی پر قبضہ کیا اور مغل بادشاہ مرہٹوں کی قید سے نکل کر انگریزوں کی غلامی میں آگیا۔" المیہ تاریخ صفحه ۱۳۴، ۱۳۵ ناشر فکشن ہاؤس مزنگ روڈ لا ہور اشاعت ۱۹۹۹ء) اس ضمن میں ڈاکٹر صاحب نے نو آبادیاتی دور اور علماء کے عقیدہ اور طرز عمل کو اپنی تحقیق کا خاص موضوع بنایا ہے اور اس حقیقت کو بالکل بے نقاب کر دیا ہے کہ : ہندوستان میں جب ایسٹ انڈیا کمپنی کی طاقت مضبوط ہو گئی اور اس نے سیاسی اقتدار حاصل کر لیا ، تو اس کے ساتھ ہی ہندوستان کا سیاسی ڈھانچہ بھی تبدیل ہونا شروع ہو گیا اور مسلمان حکمران اور امراء کمزور ہو کر بے بس ہو گئے۔لہذا ان حالات میں ان کے لئے یہ لازمی تھا کہ وہ ہندوؤں اور انگریزوں سے اپنے تعلقات کو نئے خطوط پر استوار کر دیں لیکن اس مرحلہ پر یہ سوال بھی تھا کہ ان کی راہنمائی کون کرے؟ کیونکہ بادشاہتی ادارے کے کمزور ہونے کے ساتھ ہی اس کے تمام ماختی ادارے بھی زوال پذیر ہو چکے تھے لہذا لوگوں نے علماء کی جانب رجوع کیا۔کہ وہ ان کی راہنمائی کریں۔۔۔۔مسسس