برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی — Page 21
فصل L۔۔۔۔۔۔۔سبعينيس FA برطانونی پلان اور ایک فرضی کہانی محاوروں اور طنزیہ اشاروں کنایوں کو ٹکسالی سمجھتے اور اپنا سرمایہ حیات یقین کرتے ہیں جس کا نتیجہ ہے کہ عوام بے شمار تاریخی مغالطوں میں الجھ چکے ہیں اور برصغیر کی پچھلی دوصدیوں کی حقیقی تاریخ دبیزی پردوں میں چھپادی گئی ہے مثلاً عرصہ دراز سے ہندو کانگرس کے پرستار اور کمیونسٹ نواز حلقوں کی طرف سے یہ زور دار پراپیگینڈ نظم و نثر میں جاری ہے کہ انگریز جہانگیر نام نہاد مورخوں کے تاریخی مغالطے اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے پاکستان کے مایہ ناز محقق و مبقر اور غیر جانبدار تاریخ دان جناب ڈاکٹر مبارک علی تاریخ ایک سائنس ہے۔ممتاز تاریخ ان علامہ کا نیمی (۱۴۷۵ء) کے نزدیک تاریخ کے زمانہ میں تاجروں کے بھیس میں آئے اور فریب کاری اور مکاری سے معصوم ، امن پسند اور زمانہ کے احوال اور ان کے متعلقات کی یقینی تلاش کا نام ہے۔( الحصر فی علم التاریخ) محبت و اخوت کے دیوتا ہندوستانیوں کی سلطنت پر جبر اقبضہ کر لیا مگر حقائق کیا ہیں؟ پندرہویں صدی عیسوی کے ماہر فن تاریخ حضرت سخاوی کا نظریہ بھی اس کے مماثل ہے۔فلسفہ تاریخ کے شہرہ آفاق موجد حضرت ابن خلدون کا شہرہ یورپ و امریکہ میں بھی پھیل چکا ہے۔ڈاکٹر مبارک علی صاحب کا حقیقت افروز بیان پروفیسر ٹائن بی کے مطابق عیسائی دنیا اسکی نظیر نہیں پیش کر سکتی کٹی کہ افلاطون، ارسطو، سینٹ آگسٹائن بھی اس کے ہم پلہ نہ تھے۔ابن خلدون کی تحقیق کے مطابق ماضی حال اور مستقبل ایک ہی زنجیر کی مختلف کڑیاں ہیں اور اس حقیقت سے فائدہ اٹھانے کے لئے ضروری ہے مورخ اپنی رائے اور عقیدوں کے موافق یک دم خبروں کی قبول نہ کرے ورنہ جانب داری اور پاسداری کی پٹی اس کی چشم بصیرت پر بندھ جاتی ہے اور ناقلین در ادیان اخبار پر جرح قدح نہیں ہو سکتی اور جھوٹ تاریخ میں مستقل جگہ پالیتا ہے۔۔28 تاریخ میں کانگرسیوں اور کیمونسٹوں کی اندھی تقلید سٹڈی آف ہسٹری جلد ۳ صفحه ۳۴۲) صاحب تحریر فرماتے ہیں: بالکل یہی صورتحال پاکستان پر مسلط ہے جہاں فاہیان جیسے غیر ملکی سیاحوں کے سفرنامے قیمتی معلومات سے مرضع ہیں وہاں بد قسمتی سے ہمارے یہاں بعض نام نہاد موزغ اکسٹھ سالہ آزادی کے باوجود ابھی تک جنوبی ایشیا کے متعصب کا نگری ہندوؤں اور دہر یہ کمیونسٹوں کو اپنا اتنام و پیشوا بنائے ہوئے ہیں۔انہی کی زبان استعمال کرتے اور انہی کی مخصوص سیاسی اصطلاحوں، ”ہندوستان میں انگریزوں کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ بحیثیت تاجر آئے اور اپنی شاطرانہ چالوں دھوکہ وفریب اور چالا کی سے ہندوستان پر قبضہ کر لیا۔جس معصومانہ انداز میں یہ دلیل دی جاتی ہے اس سادگی سے اسے صحیح بھی تسلیم کر لیا جاتا ہے اور ذہن تاریخ کی ان پیچیدگیوں میں نہیں الجھتا کہ جس کے نتیجے میں یہ تغیر و تبدل ہوا اور ایک معاشرے نے دوسرے معاشرے اور ایک تہذیب نے دوسری تہذیب سے شکست کھائی۔انگریزوں کا ہندوستان پر قبضہ اتنا آسان نہیں تھا کہ محض چالا کی اور دھوکے سے وہ اقتدار حاصل کر لیتے ہندوستان کی شکست اور انگریزوں کی کامیابی میں دونوں معاشروں کی ذہنی اور فکری رجحانات تھے۔E جب ہندوستان میں مغل اقتدار رو بہ زوال تھا اور اپنی عظمت کے بوجھ d