برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی — Page 20
کے سام اے ہند تیرے سر سے اٹھا سایہ خدا اک غم گسار تیرے مکینوں کی تھی گئی برطانیہ تو آج گلے مل کے ہم سے رو سامان بحر ریزی طوفاں کیسے ہوئے اُٹھا وہ ابر گوشئہ مغرب سے شعلہ ریز مشرق سے بڑھ کے ہند پر آکر برس گیا دو ضرب غم لگی ہے کہ ٹوٹا ہے بند بند کیا مرغ روح توڑ کے اپنا قفس گیا باقیات اقبال صفحہ ۷۲ تا ۷ ۸ کا انتخاب۔مرتبہ سید عبد الواحد معینی ایم اے ( آکسن ) ناشر آئینہ ادب۔چوک مینار انارکلی۔لاہور طبع دوم ۱۹۶۶ء) شمس العلماء علامہ سید علی الحائری سر کار شریعتمدار مجتهد اعلی کچھ ولادت ۱۸۷۲ ء وفات ۱۹۴۱ء) قبلہ وکعبہ نے ۲۸ جون ۱۹۲۳ء کو خطاب عام میں مسلمان خصوصاً شیعہ حضرات سے ارشاد فرمایا: اس مذہبی آزادی کے قیام و دوام کے لیے صدق دل سے آمین کہیں کیوں کہ فی الحقیقت آپ بہت ہی ناشکر گزار ہوں گے اگر آپ اس کا اعتراف نہ کریں کہ ہم کو ایسی سلطنت کے زیر سایہ ہونے کا فخر حاصل ہے جس کی عدالت اور انصاف پسندی کی مثال اور نظیر دنیا کی کسی اور سلطنت میں نہیں مل سکتی۔فی الواقع بادشاہ وقت کے حقوق میں ایک اہم حق یہ ہے کہ رعایا اپنے بادشاہ کے عدل و انصاف کے شکر گزاری میں ہمیشہ رطب اللسان رہے۔اس میں بھی حضور پیغمبر اسلام علیہ وآلہ السلام کی تاسی مسلمانوں کو لازم ہے کہ آپ نے بھی نوشیرواں عادل کے عہد سلطنت میں ہونے کا ذکر مدح اور فخر کے رنگ میں بیان کیا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ حضور کی تاسی میں مسلمان اس مبارک مہربان منصف اور عدل گستر برطانیہ عظمیٰ کی دعا گوئی اور ثنا جوئی کریں اور اس کے احسانوں کے شکر گزار ر ہیں۔غور کرو! کہ تم اسلام کی تبلیغ اور اشاعت کے لیے کیوں کر بے خوف وخطر پوری آزادی کے ساتھ آج سر میدان تقریریں اور وعظ کر رہے ہو اور کس طرح ریل، ڈاک ، تار اور دیگر ہر قسم کے سامان جس سے تبلیغ کی مشکلات میں بہت کچھ آسانیاں حاصل ہوئیں۔اس مبارک اور مسعود عہد میں ہمیں میسر آئے ہیں۔جو پہلے کبھی کسی حکومت میں موجود نہ ہوتے تھے۔اسی ہندوستان میں گذشتہ غیر مسلم سلطنتوں کے عہد میں یہ حالت تھی کہ مسلمان اپنی مسجدوں میں اذان تک نہیں کہہ سکتے تھے۔اور باتوں کا تو ذکر ہی کیا ہے۔اور حلال چیزوں کے کھانے سے روکا جاتا تھا۔کوئی با قائد و تحقیقات نہ ہوتی تھیں۔مگر یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ آج ہم ہندوستان میں ایسی مبارک مہربان سلطنت کے تحت عدالت و انصاف ہیں کہ وہ ان تمام عیوب اور خود غرضیوں سے پاک ہے۔جس کو مذاہب کے اختلاف سے کوئی بھی اعتراض نہیں ہے اور جس کا قانون ہے کہ سب مذاہب آزادی کے ساتھ اپنے مذہبی فرائض کو ادا کریں۔لہذا اس سلطنت ( برطانیہ عظمیٰ) کے وجود و بقا اور قیام و دوام کے لیے تمام احباب دعا کریں اور اس کے ایثار کا جو وہ اہل اسلام اور خاص کر شیعوں کی تربیت میں بے دریغ مرعی رکھتی ہے ، ہمیشہ صدق دل سے شکر گزار ہوں اور اس کے ساتھ دل سے وفادار رہنا اپنا شعار بنالیں اور ان کے خلاف جلسوں اور مظاہروں میں شریک اور معین ہونے سے قطعاً احتراز کریں۔المقرر على الحائری (۲۸) جنوری ۱۹۲۳ء) : d