برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی — Page 11
IA مع بسبببسة یہ کتاب مکمل ہو کر ۱۸۶۲ء کے دوران بیک وقت ہندوستان اور ایڈنبرا ( سکاٹ لینڈ) سے شائع کر دی گئی جو عیسائیت کا گڑھ اور جس کے سپاہیوں ہی نے سلطنت خداداد میسور کے سلطان ٹیپو کو شہید کر کے ہندوستان میں انگریزی اقتدار کا رستہ ہموار کیا تھا۔یہ کتاب سیکرٹری آف سٹیٹ فار انڈیا اور انڈین کونسل کے پریذیڈنٹ رائٹ آنر بیل سر چارلس وڈ بارٹ جی سی بی (SIR CHARLES WOOD BART G۔C۔B) کے نام پر معنون کی گئی جس سے کتاب کے بر طانوی پالیسی کے ترجمان ہونے پر مہر تصدیق ثبت ہو جاتی ہے۔برطانوی پلان (۱۸۶۲ء) مؤلف کتاب کیپٹن ایچ جی ریورٹی نے اپنے اکتیس صفحات کے دیباچہ میں ہندوستان میں انگریزی حکومت کے ملک گیر ہونے اور عظمت و شوکت کا ذکر جن الفاظ میں کیا ہے اُس سے پتہ چلتا ہے کہ غدر ۱۸۵۷ء نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت میں وقتی طور پر ایک زلزلہ سا ضرور بر پا کر دیا مگر ملکہ وکٹوریہ نے انڈیا کا اقتدار براہ راست اپنے ہاتھ میں لینے سے پانچ سال کے اندر اندر ملک کی کایا پلٹ دی اور انگریزی مملکت تیزی سے ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوگئی۔چنانچہ مصنف لکھتا ہے۔"As a means of present intercommunication and as a preparation for the future, it should be insisted upon by the British Government-- a monarchy of many kings, whose sceptre sways over the entire length and breadth of India, and the aegis of whose power casts its broad shadow over the whole East۔" مريلة یہ حقیقت نمایاں کرنے کے بعد برطانوی ڈپلومیسی ، پالی ٹکس اور انٹیلی جیٹھیا کے ماہر انگریز مصنف نے دیا چہ میں بڑے واضح اور کھلے الفاظ میں مستقبل سے متعلق اس برطانوی پلان کا ذکر کیا جس کا خلاصہ مختصر الفاظ میں یہ تھا کہ: 19 اول پنجاب اور سرحد کے مسلمان سپاہیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے کیونکہ بغاوت کو فرو کرنے میں انگریز فوجوں کی طرح ان کا بھی مثالی کردار رہا ہے۔اسی طرح ہندو مسلم انتہا پسندوں کی روک تھام کے لئے افغانیوں کے علاوہ سکھوں اور گورکھوں کو بھرتی کیا جانا چاہیے۔دوم افغانستان سے مراسم و روابط کو مزید تقویت دی جائے باوجود یکہ ایک حصہ میں فرنگی سے نفرت ہے۔مگر ہمیں افغانستان سے کوئی خطرہ نہیں۔افغانستان کے باشندے فارس کے قریب آبادشیعوں سے شدید نفرت رکھتے ہیں۔میر دوست محمد خاں کے بعد خونریزی کے خطرات کو دور کرنے کے لئے ہمیں اسی طرح مداخلت کرنا پڑے گی جس طرح سکھ عہد میں کی گئی تھی۔سوم افغانستان تیزی سے روسی اثرات کی لپیٹ میں آرہا ہے۔روس واحد ملک ہے جہاں سینٹ پیٹرس برگ میں دوسری زبانوں کے ساتھ سرکاری سطح پر پشتو بھی سکھلائی جاتی ہے اس لئے ہمیں ضروری ہے کہ پشتو زبان کی طرف فوری توجہ دی جائے۔چهارم آخری مگر سب سے اہم نکتہ یہ پیش کیا گیا کہ افغانستان کے باشندے اسرائیل کے گمشد و قبائل کا حصہ ہیں اور ان کی زبان میں انجیل کا ترجمہ شائع کرنا ضروری ہے۔بالفاظ دیگر سرحد اور افغانستان کو عیسائیت کی آغوش میں لانے کے لئے پشتو زبان کی لغت کی اشاعت وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔برٹش انڈیا میں عیسائی مشنوں کا جال برطانوی پالیسی کے مطابق ۱۸۶۲ء کے پہلے تین نکات پر کتاب منظر عام پر آنے کے بعد ملک بھر کے سول اور فوجی حلقوں میں پہلے سے زیادہ توجہ دی جانے لگی اور مسلمانان ہنڈ کے جہادی جذبات میں جو تلاطم برپا تھا وہ روز بروز بڑھنے لگا۔جہاں تک برطانوی پلان کے نکتہ چہارم کا تعلق ہے اس پر برطانوی حکومت نے الحاق پنجاب ( مارچ ۱۸۴۹ء) کے معأبعد زور شور سے عمل شروع کر دیا تھا اور برصغیر کے طول و عرض میں صلیبی مشنوں کا جال بچھا کر کلمہ گو مسلمانوں کو عیسائیت کے آغوش میں لانے کے تباہ کن منصوبوں پر عمل اور بھی تیز تر کر یا ۱۸۲۲ یعنی پشتو اگر محمد۔۔۔۔۔۔