برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 169

برکاتِ خلافت — Page 86

برکات خلافت 86 98 بٹھائے رکھے تو بدکاری کا خوف دامن گیر ہوتا ہے کیونکہ زمانہ بہت نازک ہے۔پھر دوسرے لوگ اگر اس کی پرواہ نہ کریں تو نہ کریں ہمیں تو اس کا بہت خیال ہے کیونکہ ہم نے تو دنیا کی بدیاں دور کرنی ہیں۔غرض کہ شادی کے معاملہ میں احمدیوں کو بہت سی تکالیف ہیں اور بعض کمزور طبائع کے لوگ ان تکالیف کی وجہ سے اپنی لڑکیوں کی شادی غیر احمدیوں کے ہاں ہی کر دیتے ہیں۔مجھے اس بات کا بڑا فکر رہتا ہے کیونکہ غیر احمد یوں کولڑ کی دینے سے بڑا نقصان پہنچتا ہے اور علاوہ اس کے کہ وہ نکاح جائز ہی نہیں۔لڑکیاں چونکہ طبعاً کمزور ہوتی ہیں اور ان کی تربیت اعلیٰ پیمانہ پر نہیں ہوئی ہوتی اس لئے وہ جس گھرانے میں بیا ہی جاتی ہیں اسی کے خیالات و اعتقادات کو اختیار کر لیتی ہیں اور اس طرح اپنے دین کو برباد کر لیتی ہیں اور اگر وہ پختہ رہیں تو میاں بیوی میں ہمیشہ جنگ رہتی ہے کیونکہ اختلاف عقائد اس محبت کو تباہ کر دیتا ہے جو میاں اور بیوی میں ہونی چاہئے۔اور اس طرح ان کے دل کا آرام اور چین جاتا رہتا ہے۔بعض لوگ حضرت مسیح موعودؓ کے حکم کو پورا کرنے کے لئے یوں کر لیتے ہیں کہ جس لڑکے سے اپنی لڑکی کا نکاح منظور ہوتا ہے اس کی نسبت مشہور کر دیتے ہیں کہ وہ تو احمدی ہی ہے یا یہ کہ وہ احمدی تو ہو چکا ہے لیکن بیعت کرنی باقی ہے۔بس قادیان جا کر بیعت کر لے گا۔بعض اسے کہ کہلا کر بیعت کا خط بھی لکھوا دیتے ہیں یا وہ قادیان آکر بیعت بھی کر لیتا ہے یا بعض لڑکے شادی کی غرض سے لڑکی والوں کو اس طرح دھوکہ دے دیتے ہیں کہ لو ہم نے بیعت کا خط لکھ دیا ہے اب آپ اپنی لڑکی دے دیں لیکن ایسے نکاح بھی کبھی سکھ کا باعث نہیں ہوتے کیونکہ ان میں نیت درست نہیں ہوتی۔اور جو شخص نکاح کی خاطر سلسلہ میں داخل ہوتا