برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 169

برکاتِ خلافت — Page 74

برکات خلافت 74 اور ہندو کیا سب ہندو ہیں اور انہی ہندوؤں کو جنہیں وہ پہلے نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے آج ساتھ شامل کر رہے ہیں اور باہیں پھیلا پھیلا کر ان سے مل رہے ہیں تا کہ اپنا جتھا قائم کریں۔لیکن ان کا جتھا بنانے کے لئے دوسروں سے ملنے کا نتیجہ وہی نکل رہا ہے جو حضرت مسیح موعود نے بذریعہ پیشگوئی بیان فرما دیا ہوا ہے۔یعنی دن بدن مٹتے جاتے ہیں اور اپنا نام ونشان گم کرتے جاتے ہیں اور وہ دن آتے جاتے ہیں جب آریہ مذہب مٹ جائے گا کیونکہ یہ قوم سیاست میں پڑ چکی ہے اور سیاست کا کوئی مذہب نہیں اس لئے ان کی سیاست رہ جائے گی۔لیکن مذہب مٹ جائے گا۔غرض کہ جتھے کے بغیر سیاست نہیں چل سکتی۔لیکن جب دوسروں کو ملا کر جتھا بنایا جائے گا تو اپنی خصوصیات چھوڑنی پڑیں گی۔اور جب کوئی قوم اپنی خصوصیات چھوڑ دے گی تو وہ تباہ اور برباد ہو جائے گی۔۱۹۰۷ ء میں جب پنجاب میں سخت شورش کے آثار پیدا ہوئے تھے اور بعض شریروں نے گورنمنٹ کے خلاف جوش پھیلا دیا تھا اس وقت دیکھا گیا کہ بعض بڑے بڑے وکلاء نے مسلمانوں کی دعوت کی اور ایک جگہ مل کر سب نے کھانا کھایا اور سب چھوت چھات کے خیالات کو ترک کر دیا یہ کیوں ہوا۔جتھے کو وسیع کرنے کے لئے چنانچہ جو لوگ سیاست میں زیادہ پڑے ہوئے ہیں ان سے پوچھ کر دیکھو ان کا یہی مذہب ہے کہ ہم اول ہندوستانی ہیں اور پھر ہندو یا مسلمان ہیں۔لیکن کیا اسلام اس بات کی اجازت دے سکتا ہے ہرگز نہیں۔اسلام تو یہی بتا تا ہے کہ تم اول مسلمان ہو اور پھر کچھ اور ہو بلکہ پھر کچھ بھی نہیں ہو۔