برکاتِ خلافت — Page 75
برکات خلافت 75 شائد کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ بعض لوگ سیاست میں بھی مشغول ہوتے ہیں اور پھر دین میں بھی مشغول ہوتے ہیں بلکہ دین کی خدمت میں اپنا بہت سا وقت صرف کرتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیاست میں مشغول ہو کر پھر بھی انسان دین کے کام کر سکتا ہے لیکن جیسا کہ میں ابھی بتا چکا ہوں یہ تو ممکن ہے کہ بعض لوگ سیاست کے ساتھ دین سے بھی تعلق رکھیں۔لیکن یہ ضرور ہے کہ چونکہ سیاست جتھا چاہتی ہے اور جو لوگ سیاست میں پڑتے ہیں وہ یا تو دین کو عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں اور اس طرح دین کی اصل غرض فوت ہو جاتی ہے اور اس عمل سے بجائے دین کی ترقی ہونے کے اسے سخت صدمہ پہنچ جاتا ہے اور یا یہ لوگ کثیر جماعت کی خاطر اپنے عقائد میں تبدیلیاں پیدا کرنی شروع کر دیتے ہیں اور اس طرح دوستی کے پردہ میں دشمنی کرتے ہیں اور غریب لوگ ان کی وجاہت اور انکے علم کے دھو کے میں ان کے شائع کردہ گندے اور بیہودہ عقائد کو ہی اصل اور سچے عقیدے خیال کر لیتے ہیں اور اس طرح دین کا مغز ضائع ہو جاتا ہے۔پس گو بعض ایسے لوگ بھی ہوں جو سیاست کے ساتھ دین کی طرف بھی توجہ رکھیں لیکن اس وقت چونکہ صداقت کمزور ہے ایسے لوگ دین کے لئے سخت نقصان دہ ہیں۔وو احسان کا بدلہ ہونا چاہئے : پھر ہم کہتے ہیں کہ احسان بھی تو دنیا میں کوئی چیز ہے حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ ”وہ تلخی اور مرارت جو سکھوں کے عہد میں ہم نے اٹھائی تھی۔گورنمنٹ برطانیہ کے زیر سایہ آ کر ہم سب بھول گئے پھر آپ نے لکھا ہے کہ جب سکھ ظلم کرتے تھے تو وہ کون تھا جو ہمیں ان سے بچانے کے لئے آیا۔کیا اس