برکاتِ خلافت — Page 70
برکات خلافت 70 ایک ایک سپاہی کے مقابلہ میں ہزاروں سپاہی لاسکتا ہے۔جو مسلمان ہیں وہ خود اسلام سے بیزار ہورہے ہیں اور صرف نام کے مسلمان ہیں ورنہ اسلام سے وہ ایسے ہی دور ہیں جیسے کہ غیر مذاہب کے لوگ۔پس اس جنگ میں چند آدمی کا میاب نہیں ہو سکتے بلکہ ہر ایک مرد ، بچہ اور عورت کو اس میں حصہ لینے کے لئے کھڑا ہو جانا چاہیئے۔اگر کسی مرکان کو آگ لگ جائے تو اس وقت یہ نہیں کہا جاتا کہ سقہ کو بلاؤ تا کہ وہ پانی لا کر آگ بجھائے کیونکہ وہ پانی مہیا کرنے پر مقرر ہے اور اس کام کی تنخواہ لیتا ہے اگر وہ آج کام نہیں آتا تو اسے نوکر کس لئے رکھا ہوا ہے بلکہ ہر ایک شخص دوڑتا اور بھاگتا ہوا جاتا ہے۔تا کہ آگ پر پانی ڈالے اور اس کو بجھائے اور عورتیں اور بچے بھی اس کام میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔اسی طرح اس وقت اسلام کے گھر کو دشمن نے آگ لگائی ہوئی ہے اور احمق ہے وہ جو اس انتظار میں بیٹھے کہ سقے اس آگ کو بجھائیں۔اس عظیم الشان آگ کو جو اسلام کے مکان کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے ایک دو آدمی نہیں بجھا سکتے بلکہ ہر ایک شخص کا جو اپنے دل میں ذرہ بھی ایمان رکھتا ہے کام ہے کہ وہ اس آگ کو بجھانے میں لگ جائے اور تم میں سے ہر ایک کا یہ فرض ہے خواہ مرد ہو یا عورت، جوان ہو یا بوڑھا، بچہ ہو یا نوجوان لڑکی ہو یا لڑکا کہ وہ اس آگ کو بجھانے کے لئے اٹھ کھڑا ہو۔اگر کوئی ایسے وقت میں بھی غفلت کرتا ہے تو وہ اسلام میں نہیں ہے۔پس ایسے زمانہ میں جبکہ اسلام کی حالت یہاں تک نازک ہوگئی ہے اگر حضرت مسیح موعود لوگوں کو سیاسی معاملات میں حصہ لینے کی اجازت دے دیتے تو بہت سا حصہ جماعت کا اس میں لگ جاتا اور اسلام کی خدمت سے الگ ہو جاتا حالانکہ اسلام کو اس مدد کی سخت