برکاتِ خلافت — Page 66
برکات خلافت 66 99 کے لئے تشریف لے گئے۔یوں تو آپ کسی کے پاس نہ جایا کرتے تھے لیکن انہیں اپنا مہمان سمجھ کر چلے گئے۔ان دنوں گورنمنٹ کا یہ خیال تھا کہ مسلم لیگ سے گورنمنٹ کو فائدہ پہنچے گا۔ان افسر صاحب نے حضرت صاحب سے پوچھا کہ آپ کا مسلم لیگ کے متعلق کیا خیال ہے۔آپ نے فرمایا میں اسے نہیں جانتا۔خواجہ صاحب چونکہ اس کے ممبر تھے انہوں نے اس کے حالات عجیب پیرایہ میں آپ کو بتائے فرمایا میں پسند نہیں کرتا کہ لوگ سیاست میں دخل دیں۔صاحب بہادر نے کہا مرزا صاحب ! مسلم لیگ کوئی بری چیز نہیں بلکہ بہت مفید ہے۔آپ نے فرمایا۔بری کیوں نہیں۔ایک دن یہ بھی بڑھتے بڑھتے بڑھ جائے گی۔صاحب بہادر نے کہا مرزا صاحب ! شائد آپ نے کانگرس کا خیال کیا ہوگا۔لیگ کا حال کانگرس کی طرح نہیں کیونکہ کسی کام کی جیسی بنیاد رکھی جاتی ہے ویسا ہی اس کا نتیجہ نکلتا ہے۔کانگرس کی بنیاد چونکہ خراب رکھی گئی تھی اس لئے وہ مضر ثابت ہوئی لیکن مسلم لیگ کے تو ایسے قواعد بنائے گئے ہیں کہ اس میں باغیانہ عنصر پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔حضرت صاحب نے فرمایا۔آج آپ کا یہ خیال ہے تھوڑے دنوں کے بعد لیگ بھی وہی کام کرے گی جو آج کانگرس کر رہی ہے۔چنانچہ واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ اب مسلم لیگ بھی اس سیلف گورنمنٹ کے حصول کی طرف جھک رہی ہے جس کا کانگرس مدت سے مطالبہ کر رہی تھی گود کھاوے کے لئے لفظوں میں کچھ فرق رکھا ہو۔غرض کہ گوصوبہ کے ایک بڑے اور ذمہ دار حاکم نے اس بات پر زور بھی دیا کہ مسلم لیگ سے نقصان نہیں ہو گا لیکن حضرت صاحب نے یہی جواب دیا کہ اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہوگا۔آخر ایسا ہی ہوا۔پس خوب یاد رکھو کہ حضرت