برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 169

برکاتِ خلافت — Page 49

برکات خلافت 49 49 مسئلہ خلافت پر پانچویں آسمانی شہادت: میں نے حضرت خلیہ اسیح کی وفات سے تین سال پہلے ایک خواب دیکھا۔جس کی تعبیر یہ تھی کہ آپ کی وصیت سے نواب صاحب کا بھی کچھ تعلق ہے۔چنانچہ تین سال بعد اللہ تعالیٰ نے اس رؤیا کو پورا کر کے دکھا دیا کہ وہ کیساز بر دست ہے۔مسئلہ خلافت پر چھٹی آسمانی شہادت: ۱۹۱۳ء میں میں ستمبر کے مہینہ میں پاندون کے لئے شملہ گیا تھا۔جب میں یہاں سے چلا ہوں تو حضرت خلیفہ اسیح کی طبیعت اچھی تھی لیکن وہاں پہنچ کر میں نے پہلی یا دوسری رات دیکھا کہ رات کا وقت ہے اور قریباً دو بجے ہیں میں اپنے کمرہ میں ( قادیان میں ) بیٹھا ہوں۔مرزا عبد الغفور صاحب ( جو کلانور کے رہنے والے ہیں ) میرے پاس آئے اور نیچے سے آواز دی میں نے اٹھ کر ان سے پوچھا کہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حضرت خلیفہ اسیح کو سخت تکلیف ہے تپ کی شکایت ہے ایک سودو (۱۰۲) کےقریب تپ ہو گیا تھا آپ نے مجھے بھیجا ہے کہ میاں صاحب کو جا کر کہ دو کہ ہم نے اپنی وصیت شائع کر دی ہے مارچ کے مہینہ کے بدر میں دیکھ لیں۔جب میں نے یہ رویا دیکھی تو سخت گھبرایا اور میرا دل چاہا کہ واپس لوٹ جاؤں۔لیکن میں نے مناسب خیال کیا کہ پہلے دریافت کرلوں کہ کیا آپ واقع میں بیمار ہیں۔سو میں نے وہاں سے تار دیا کہ حضور کا کیا حال ہے جس کے جواب میں حضرت نے لکھا کہ اچھے ہیں۔یہ رویا میں نے اسی وقت نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کو اور مولوی سید سرور شاہ صاحب کو سنا دی تھی اور غالبا نواب صاحب کے صاحبزادگان میاں عبد الرحمن خان صاحب، میاں عبداللہ خان صاحب،