برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 169

برکاتِ خلافت — Page 48

برکات خلافت 48 ہوئی موجود ہے اور وہ دوسری رؤیا بھی دیکھ چکا تھا جس میں میر محمد الحق صاحب کے سوالات سے منافقوں کے سر جلنے کا پتہ دیا گیا تھا۔لیکن پھر بھی طبیعت پر ایک بوجھ تھا اور میں چاہتا تھا کہ زیادہ وضاحت سے مجھے اس مسئلہ کی نسبت کچھ بتایا جائے۔اور میں نے اپنے رب کے حضور میں بار بار عرض کی کہ الہی مجھے حق کا پتہ دیا جائے اور صداقت مجھ پر کھول دی جائے اور جو بات سچ ہو وہ مجھے بتادی جائے کیونکہ مجھے کسی پارٹی سے تعلق نہیں بلکہ صرف حضور کی رضا حاصل کرنے کا شوق ہے۔جس قدر دن جلسہ میں باقی تھے ان میں میں برابر یہ دعا کرتا رہا لیکن مجھے کچھ نہ بتایا گیا حتی کہ وہ رات آگئی جس دن صبح کو وہ جلسہ تھا جس میں یہ سوالات پیش ہونے تھے اور اس رات میرا کرب بڑھ گیا اور میرا دل دھڑکنے لگا اور میں گھبرا گیا کہ اب میں کیا کروں۔اس رات میں بہت ہی گڑ گڑایا اور عرض کیا کہ الہی صبح کو یہ معاملہ پیش ہوگا حضور مجھے بتائیں کہ میں کس طرف ہوں۔اس وقت تک تو میں خلافت کو حق سمجھتا ہوں لیکن مجھے حضور کی رضا مطلوب ہے کسی اپنے اعتقاد پر اصرار نہیں میں حضور سے ہی اس مسئلہ کا حل چاہتا ہوں تا میرے دل کو تسلی ہو۔پس صبح کے وقت میری زبان پر یہ الفاظ جو قر آن کریم کی ایک آیت ہے جاری کئے گئے قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان: ۷۸) کہہ دے کہ میرا رب تمہاری پرواہ ہی کیا کرتا ہے اسکے بعد مجھے تسلی ہوگئی اور میں نے خیال کیا کہ میں حق پر ہوں کیونکہ لفظ قلن نے بتا دیا ہے کہ میرا خیال درست ہے تبھی تو مجھے حکم ہوا کہ میں لوگوں کو حکم الہی سنادوں۔اور اگر میرا عقیدہ غلط ہوتا تو یہ الفاظ ہوتے کہ مَا يَعْبُثُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ میں نے یہ الفاظ کئی لوگوں کو سنا دئیے تھے مگر اب یاد نہیں کہ کس کس کو سنائے تھے۔