برکاتِ خلافت — Page 39
برکات خلافت 39 99 مکه، دوسرامدینہ، اور تیسرا قادیان۔جن کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔پھر یہ الہام کیوں ہوتا؟ کہ خدا قادیان میں نازل ہوگا“ (ے نومبر ۱۹۰۲ البدر جلد نمبر ۲ صفحه ۱۱ ، تذکره صفحه ۷۶،۷۵ ایڈیشن چہارم)۔اگر لاہور کو قادیان کے مقابلہ میں نہ کھڑا کیا جانا ہوتا تو اس طرح خصوصیت سے قادیان کا کیوں ذکر ہوتا۔(۱۴) اگر خاندان نبوت پر کوئی اعتراض کرنے والا نہ ہوتا تو حضرت مسیح موعود الوصیت میں یہ کیوں تحریر فرماتے ” میری نسبت اور میرے اہل وعیال کی نسبت خدا نے استثناء رکھا ہے۔باقی ہر ایک مرد ہو یا عورت ان کو شرائط کی پابندی لازم ہوگی اور شکایت کرنے والا منافق ہوگا۔پس اس فتنہ کو کوئی روک نہیں سکتا تھا اور کیونکر کوئی روک سکتا جبکہ خدا نے مقدر کر رکھا تھا اس لئے ایسا ہونا ضروری تھا اور ہوا۔مگر جس طرح کسی کا ہاتھ بیماری کی وجہ سے خراب ہو جاتا ہے تو وہ مجبوراً اسے کٹا دیتا ہے لیکن اس ہاتھ کٹانے پر وہ خوش نہیں ہوتا ہاں اس کو اس بات کی خوشی ہوتی ہے کہ ہاتھ کٹانے سے باقی جسم تو بچ گیا ہے اسی طرح ہمیں بھی اس بات کا درد تو ہے کہ ایک حصہ جماعت کا کٹ گیا ہے مگر خوشی بھی ہے کہ باقی جماعت تو اس کے مضر اثر سے بچ گئی ہے۔اب میں وہ شہادتیں پیش کرتا ہوں جو خدا تعالیٰ نے مجھے اس معاملہ کے متعلق دی ہیں۔گو دل چاہتا تھا کہ یہ فتنہ نہ اٹھتا مگر ان الہامات اور رؤیا کی صداقت کیونکر ظاہر ہوتی جو حضرت مسیح موعود کو اس فتنہ کی نسبت قبل از وقت دکھلائی گئی تھیں اور میرے لئے تو ان تمام فسادات میں یہ الہامات ہی خضر راہ کا کام دینے کے لئے کافی تھے مگر میرے رب الوصیت صفحہ ۲۹۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۲۷