برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 169

برکاتِ خلافت — Page 24

برکات خلافت 24 چاہتے اور واپس چلے آئے۔خدا تعالیٰ نے ان کو اس نعمت کی ناقدری میں یہ سزادی کہ فرمایا: اب تم سے کوئی شرعی نبی بر پا نہیں کیا جائے گا۔بلکہ تمہارے بھائیوں میں سے کیا جائے گا۔تو خدا تعالیٰ کی نعمت کو رد کرنے والوں کی نسبت جب میں یہ دیکھ چکا ہوں تو پھر خدا کی نعمت کو میں کس طرح رڈ کر دیتا۔مجھے یقین تھا کہ وہ خدا جس نے مجھے اس کام کے لئے چنا ہے وہ خود میرے پاؤں کو مضبوط کر دے گا۔اور مجھے استقامت اور استقلال بخشے گا۔پس اگر مجھے خلیفہ ماننے والے بھی سب کے سب نہ ماننے والے ہو جاتے اور کوئی بھی مجھے نہ مانتا اور ساری دنیا میری دشمن اور جان کی پیاسی ہو جاتی جو کہ زیادہ سے زیادہ یہی کرتی کہ میری جان نکال لیتی تو بھی میں آخری دم تک اس بات پر قائم رہتا۔اور کبھی خدا تعالیٰ کی نعمت کے رڈ کرنے کا خیال بھی میرے دل میں نہ آتا کیونکہ یہ غلطی بڑے بڑے خطرناک نتائج پیدا کرتی ہے۔امام حسن کا واقعہ: امام حسن رضی اللہ عنہ سے یہی غلطی ہوئی تھی جس کا بہت خطر ناک نتیجہ نکلا۔گو یہ غلطی ان سے ایک خاص اعتقاد کی بناء پر ہوئی اور وہ یہ کہ بیٹا باپ کے بعد خلیفہ نہیں ہوسکتا۔جیسا کہ حضرت عمر کا اعتقاد تھا اور میرا بھی یہی اعتقاد ہے اور یہی وجہ تھی کہ حضرت عمرؓ نے اپنے بعد انتخاب خلیفہ کے متعلق فرمایا کہ میرے بیٹے سے اس میں مشورہ لیا جائے لیکن اس کو خلیفہ بنے کا حق نہ ہوگا۔حضرت علی نے اپنے بیٹے امام حسن کو اپنے بعد خلیفہ مقرر کیا۔ان کی نیت نیک تھی کیونکہ اور کوئی ایسا انسان نہ تھا جسے خلیفہ بنایا جا سکتا اور جو خلافت کا اہل ہوتا۔معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حسن بھی حضرت عمر کا سا ہی خیال رکھتے تھے۔یعنی یہ کہ باپ کے بعد بیٹا خلیفہ نہیں ہونا چاہیئے اسلئے