برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 169

برکاتِ خلافت — Page 157

برکات خلافت 157 تمہیں کہنے کی کیا ضرورت ہے۔انہوں نے کہا اچھا پھر آپ خدا سے دعا کریں۔انہوں نے کہا کیا اللہ تعالیٰ مجھے نہیں دیکھ رہا کہ میں دعا کروں۔وہ جبکہ خود میری ہر ایک بات جانتا اور دیکھتا ہے تو پھر میں کیوں کہوں کہ مجھے فلاں ضرورت ہے آپ اسے پورا کر دیں۔غرض انسان ترقی کرتے کرتے ملکوتی صفات سے بھی آگے بڑھ جاتا ہے اور صفات الہیہ کو اپنے اندر پیدا کر لیتا ہے اور اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ایک ہتھیار کی طرح کر دیتا ہے کہ خدا کے ہلائے سے ہلتا اور اس کے چلائے سے چلتا ہے ایسے انسان کا مقابلہ خدا تعالیٰ کا مقابلہ ہوتا ہے اور یہ شخص اپنے ہر کام کواللہ تعالیٰ کی ہی رضا پر چھوڑ دیتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جس کی نسبت رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو انسان ترقی کر کے خدا تعالیٰ کا مقرب ہو جاتا ہے خدا اس کی آنکھیں اس کے کان اور اس کے ہاتھ پاؤں ہو جاتا ہے جو اس کا دشمن ہوتا ہے وہ خدا کا دشمن ہوتا ہے اور جو اس کا دوست ہوتا ہے وہ خدا کا دوست ہوتا ہے یہی وہ درجہ ہے جس کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود سے فرمایا کہ جو تیری طرف توجہ نہیں کرتا وہ میری ( اللہ ) طرف توجہ نہیں کرتا کیونکہ تو تو میری صفات کا مظہر ہے اس لئے تیرا انکار میرا انکار ہے یہ وہ درجہ ہے کہ انسان بالکل خدا تعالیٰ کے قبضہ میں چلا جاتا ہے اس سے بڑھ کر ایک ہی اور درجہ ہے۔ساتواں درجہ : اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ثُمَّ انْشَأْنَهُ خَلْقاً آخَرَ - (المؤمنون : ۱۵) پھر کیا پوچھتے ہو۔وہ حالت تو بیان ہی نہیں ہوسکتی۔اب بندہ کو ایک اور خلق میں بدل دیا جاتا ہے اور ایک دفعہ پھر اسے اس کی طاقتیں واپس کی جاتی ہیں اور اگر پہلے درجہ میں