برکاتِ خلافت — Page 156
برکات خلافت 156 انسان کا وہ درجہ تھا کہ ملائکہ میں تھا۔اس درجہ میں وہ یہ سمجھتا تھا کہ میں بھی کچھ کر سکتا ہوں مجھے حکم دو میں کروں گا۔مگر یہ ایک ایسی حالت ہے کہ انسان کہتا ہے کہ میں کچھ بھی نہیں ہوں جس طرح آپ کی مرضی ہو اسی طرح مجھے چلائیے۔اب جبکہ اس کو خدا چلائے گا تو جو کام اس سے ہوں گے وہ خدا تعالیٰ کے ہوں گے کیونکہ جس کے ہاتھ میں قلم ہوگی اسی کے نام سے چلے گی۔لکھا ہے کہ ایک سپاہی اپنی تلوار کو اس زور سے مارتا تھا کہ گھوڑے کے چاروں پاؤں یک لخت کاٹ دیتا تھا۔بادشاہ کے لڑکے نے جو اس کا یہ کام دیکھا تو اس سے کہا کہ یہ تلوار مجھے دے دیجئے۔اس نے کچھ عذر کیا بادشاہ نے اس سپاہی کو کہہ کر وہ تلوار اس شہزادہ کو دلوادی۔جب اس شہزادہ نے وہ تلوار چلائی تو کچھ بھی اثر نہ ہوا۔اس پر اس سپاہی نے کہا کہ میں اس وجہ سے یہ تلوار نہیں دیتا تھا کہ اس تلوار میں کوئی خاص جو ہر تھا بلکہ یہ تو اس لئے گھوڑے کے چاروں پاؤں اڑا دیتی تھی کہ یہ میرے ہاتھ میں تھی۔مجھے اب کوئی اور تلوار دے دی جائے تو اس سے بھی میں کاٹ دوں گا کیونکہ تلوار کی خصوصیت نہیں بلکہ میری ہے۔یہی حال بندہ کا ہوتا ہے جب وہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں دے دیتا ہے تو اس کے تمام کام خدا تعالیٰ کے کام ہی ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بعض احمق جو اس بات کو نہیں سمجھتے جب ان کاموں میں روک ڈالتے ہیں تو ایسے تباہ ہوتے ہیں کہ ان کا کچھ باقی نہیں رہتا۔اس درجہ کو پہنچنے والے انسان کو ملائکہ کے واسطہ کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔حضرت ابراہیمؑ کے متعلق ایک واقعہ لکھا ہے کہ حضرت جبرائیل انکے پاس آئے اور کہا کہ اگر آپ کو کوئی ضرورت ہے تو مجھے کہو۔انہوں نے کہا اگر مجھے ضرورت ہوگی تو میں خدا تعالیٰ کو کہوں گا