برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 169

برکاتِ خلافت — Page 150

برکات خلافت 150 جاتے ہیں اور وہ اور بھی گر جاتا ہے اور کبھی اس پر بھی جمادی رنگ اپنا اثر ڈال دیتا ہے اور انسان جمادات کا رنگ اختیار کر لیتا ہے اور سنگدل ہو جاتا ہے جس طرح پتھر کو کوئی جدھر چاہے پھینک دیتا ہے۔اسی طرح دنیا کے واقعات اور حوادث اس کو لڑھکاتے رہتے ہیں اور ایسے انسان کو کچھ پتہ نہیں ہوتا۔اسی طرح جب انسان ترقی کی طرف قدم اٹھاتا ہے اور اس جمادی حالت کو ترک کر دیتا ہے تو اس کے اندر نباتات کے مشابہ ایک نشو ونما کی طاقت پیدا ہو جاتی ہے پس ایک تو وہ انسان ہوتے ہیں جو کہ پتھر کی طرح ہوتے ہیں اور ان میں احساس نہیں ہوتا۔لیکن ایک نباتات کی طرح ہوتے ہیں جن میں کچھ احساس ہوتا ہے۔اب بڑے تجربہ کے بعد یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ نباتات میں بھی روح ہوتی ہے گو حیوانی روح سے ادنی درجہ پر ہوتی ہے مگر ہوتی ضرور ہے۔اس کے ثبوت کے لئے چھوٹی موٹی کی بوٹی جسے اردو میں لاجونتی کہتے ہیں پیش ہو سکتی ہے اس کے پتوں کو جب ہاتھ لگایا جائے تو وہ سکڑ جاتے ہیں۔یہ پودا نباتات کے اس حصہ میں سے ہے جو اپنی قوت نشو و نما میں ترقی کر کے حیوانی درجہ کے قریب ہو گئے ہیں اور اس سے پتہ لگتا ہے کہ درختوں میں بھی حس ہوتی ہے گو بعض درختوں میں زیادہ ہوتی ہے اور بعض میں کم۔اس طرح بعض اور نباتات حیوانات سے ملتے ہیں جیسے اسپنج کہ اس کی غذا بھی حیوانات سے بنتی ہے اور بعض تو اسے حیوان ہی کہتے ہیں گو سچ تو یہی ہے کہ وہ ایک ترقی یافتہ پودا ہے جو حیوانیت کی سرحد کے بہت قریب ہو گیا ہے۔غرض ان نظائر سے معلوم ہوتا ہے کہ نباتات میں بھی حس ہوتی ہے لیکن حیوانات اور نباتات میں فرق یہ ہوتا ہے کہ ان میں حس تو ہوتی ہے لیکن کسی صدمہ