برکاتِ خلافت — Page 10
برکات خلافت 10 ہوں۔پہلا اعتراض اور اس کا جواب: ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ خلیفہ وہ ہوتا ہے جو بادشاہ ہو یا ماً مور تم کون ہو۔بادشاہ ہو؟ میں کہتا ہوں نہیں۔مامور ہو؟ میں کہتا ہوں نہیں۔پھر تم خلیفہ کس طرح ہو سکتے ہو خلیفہ کے لئے بادشاہ یاماً مور ہونا شرط ہے یہ اعتراض کرنے والے لوگوں نے خلیفہ کے لفظ پر ذرا بھی تدبر نہیں کیا۔یہ ایسی ہی بات ہے کہ ایک شخص درزی کی دکان پر جائے اور دیکھے کہ ایک لڑکا اپنے استاد کو کہتا ہے ” خلیفہ جی“ وہ وہاں سے آکر لوگوں کو کہنا شروع کر دے کہ خلیفہ تو درزی کو کہتے ہیں۔اور کوئی شخص جو درزی کا کام نہیں کرتا وہ خلیفہ کس طرح ہوسکتا ہے؟ اسی طرح ایک شخص مدرسہ میں جائے ( پہلے زمانہ میں مانیٹر کو خلیفہ کہتے تھے ) اور لڑکوں کو ایک لڑکے کو خلیفہ کہتے سنے اور باہر آ کر کہہ دے کہ خلیفہ تو اسے کہتے ہیں جولڑکوں کا مانیٹر ہوتا ہے۔اس لئے وہ شخص جولڑکوں کا مانیٹر نہیں وہ خلیفہ نہیں ہوسکتا خلیفہ کے لئے تو لڑکوں کا ہونا شرط ہے۔اسی طرح ایک شخص دیکھے کہ آدم کو خدا تعالیٰ نے خلیفہ بنایا اور انکے لئے فرشتوں کو حکم دیا کہ سجدہ کرو۔وہ کہے کہ خلیفہ تو وہی ہوسکتا ہے جس کو سجدہ کرنے کا حکم فرشتوں کو ملے ورنہ نہیں ہوسکتا۔اسی طرح ایک اور شخص آنحضرت ﷺ کے خلفاء کو دیکھے جن کے پاس سلطنت اور حکومت تھی۔تو کہے کہ خلیفہ تو اس کو کہتے ہیں جس کے پاس سلطنت ہو اس کے سوا اور کوئی خلیفہ نہیں ہوسکتا کیونکہ خلیفہ کے لئے سلطنت کا ہونا شرط ہے۔لیکن ایسا کہنے