برکاتِ خلافت — Page 9
برکات خلافت 9 نے آنحضرت ﷺ کا کام یہ بتایا ہے يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ايْتِهِ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ (ال عمران (۱۶۵) یعنی یہ کہ (۱) خدا کی آیات لوگوں پر پڑھے۔(۲) ان کا تزکیہ نفس کرے۔(۳) انہی کتاب سکھائے۔(۴) انکو حکمت سکھائے۔میں نے یہ بھی اس تقریر میں بتایا تھا کہ یہ چاروں کام نبی کے دنیا کی کوئی انجمن نہیں کر سکتی۔یہ وہی شخص کر سکتا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نبی کے بعد مقرر کیا جاتا ہے اور جسے خلیفہ کہا جاتا ہے۔اس موقع پر یہ باتیں نہیں ذکر کی جاتیں۔ہاں چند موٹے موٹے اعتراضات میں بیان کر کے ان کے جواب دیتا ہوں اور یہ بھی بتا تا ہوں کہ کیوں میں نے دلیری اور استقلال کو ہاتھ سے نہ دیا اور اپنی بات پر مضبوط جما رہا۔بعض لوگ میری نسبت یہ کہتے ہیں کہ اس نے کیوں وسعت حوصلہ سے کام لے کر یہ نہ کہہ دیا کہ میں خلیفہ نہیں بنتا۔ایسا کہنے والا سمجھتا ہے کہ خلافت بڑے آرام اور راحت کی چیز ہے مگر اس احمق کو یہ معلوم نہیں کہ خلافت میں جسمانی اور دنیاوی کسی قسم کا سکھ نہیں ہے۔اب میں یہ بتاتا ہوں کہ کیوں میں نے جرات اور دلیری سے کام لے کر اس بار کو اٹھایا اور وہ کیا چیز تھی جس نے مجھے قوم کے دوٹکڑے ہوتے دیکھ کر ایک جگہ پر قائم رہنے دیا اور وہ کون سا ہاتھ تھا جس نے مجھے ایک جگہ کھڑا کئے رکھا۔اس وقت تو چاروں طرف کے لوگ موجود ہیں۔لیکن ایک وہ وقت تھا کہ بہت قلیل حصہ جماعت کا بیعت میں شامل ہوا تھا۔سوال یہ ہے کہ اس وقت جماعت کے اتحاد کی خاطر میں نے کیوں نہ اپنی بات چھوڑ دی؟ اور اتحاد قائم رکھا اس لئے آج میں اس بات کو بیان کروں گا جس نے مجھے مضبوط رکھا۔لیکن اس سے پہلے میں چند اور باتیں بیان کرتا