برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 169

برکاتِ خلافت — Page 57

برکات خلافت 57 کہا آؤ دونوں کو نا ہیں۔مولوی صاحب صندوق پر سے اترنا چاہتے ہیں لیکن جس طرح بچے اونچی چار پائی پر سے مشکل سے اترتے ہیں اس طرح بڑی مشکل سے اترتے ہیں اور جب شیخ صاحب نے مجھے اور ان کو پاس پاس کھڑا کیا تو وہ بے اختیار کہ اٹھے کہ ہیں میں تو سمجھتا تھا کہ مولوی صاحب اونچے ہیں لیکن اونچے تو آپ نکلے۔میں نے کہا ہاں میں ہی اونچا ہوں۔اس پر انہوں نے کہا کہ اچھا میں مولوی صاحب کو اٹھا کر آپ کے کندھوں کے برابر کرتا ہوں دیکھیں ان کے پیر کہاں آتے ہیں اور یہ کہہ کر انہوں نے مولوی صاحب کو اٹھا کر میرے کندھوں کے برابر کرنا چاہا۔جتنا وہ اونچا کرتے جاتے اسی قدر میں اونچا ہوتا جاتا آخر بڑی دقت سے انہوں نے ان کے کندھے میرے کندھوں کے برابر کئے تو ان کی لاتیں میرے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچ سکیں۔جس پر وہ سخت حیران ہوئے یہ خواب اس وقت کی ہے جب ان جھگڑوں کا وہم و گمان بھی نہ ہوسکتا تھا۔سات سال کے بعد کے واقعات بتانا انسان کا کام نہیں میں نے یہ رویا اسی وقت سید سرور شاہ صاحب سید ولی اللہ شاہ صاحب کو جو اس وقت بیروت (شام) میں ہیں اور سید حبیب اللہ شاہ صاحب کو جو میڈیکل کالج کی آخری کلاس میں پڑھتے ہیں سنا دی تھی اور ان سے گواہی لی جاسکتی ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ ان کو یہ رویا یا د ہوگی۔ممکن ہے کہ اور دوستوں کو بھی سنائی ہو لیکن اور کسی کا نام یاد نہیں ہم اس وقت اس روڈ یا پر حیران ہوا کرتے تھے کہ یہ قدوں کا نا پنا کیا معنی رکھتا ہے نہ خلافت کا سوال تھا نہ خلیفہ کی بیعت کا حضرت مسیح موعود زندہ تھے کون سمجھ سکتا تھا کہ کبھی واقعات بدل کر اور کی اور صورت اختیار کرلیں گے مگر خدا کی باتیں پورے ہوئے بغیر نہیں رہتیں۔مولوی محمد علی صاحب کے