برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 169

برکاتِ خلافت — Page 58

برکات خلافت 58 دوستوں نے انہیں میرے مقابلہ پر کھڑا کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سخت نا کام کیا۔حتیٰ کہ انہوں نے اپنی ذلت کا خود اقرار کیا جس قدر بھی ان کے دوستوں نے زور مارا کہ ان کو اونچا کریں اسی قدر خدا تعالیٰ نے ان کو نیچا کیا اور قریباً ستانوے فی صدی احمدیوں کو میرے تابع کر دیا اور میرے ذریعہ جماعت کا اتحاد کر کے مجھے بلند کیا۔اب میں آخر میں تمام راستی پسند انسانوں کو کہتا ہوں کہ اگر وہ اب تک خلافت کے مسئلہ میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکے تو اب بھی فیصلہ کر لیں کیونکہ یہ کام خدا کی طرف سے ہوا ہے اور کسی انسان کا اس میں دخل نہیں۔اگر آپ اس صداقت کا انکار کریں گے تو آپ کو حضرت مسیح موعود کی صداقت کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔پس حق کو قبول کریں اور جماعت میں تفرقہ نہ ڈالیں۔میں کیا چیز ہوں؟ میں جماعت کا ایک خادم ہوں جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اس جماعت کو متحد کرنا چاہتا ہے ورنہ کام تو سب اللہ تعالیٰ کا ہے۔مجھے خلافت کا نہ کوئی شوق تھا اور نہ ہے مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کام پر مقرر کر دیا تو میں ہو گیا۔میرا اس میں کوئی دخل نہیں۔اور آپ ان باتوں کو سن کر یہ بھی اندازہ کر سکیں گے کہ جبکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے قبل از وقت خلافت کا جھگڑا ، خلیفہ کی صداقت ، خلیفہ اول کی وفات کا سن ، مہینہ، آپ کی وصیت، میرا گاڑی میں آپ کی وفات کی خبر سننا، آپ کی بیماری کا حال سب کچھ بتادیا تھا تو کیا ایک لمحہ کے لئے بھی میرا دل متر ڈ دہو سکتا تھا۔اور جبکہ بعض دوسری رؤیا نے وقت پر پوری ہو کر بتا دیا کہ منشائے الہی یہی تھا کہ میں ہی دوسرا خلیفہ ہوں اور میری مخالفت بھی ہو اور کامیابی میرے لئے ہو تو کیا میں خلافت کے متعلق ان لوگوں کا مشورہ سن سکتا تھا جو مجھے مشورہ دیتے تھے کہ میں اب بھی اس کام