برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 169

برکاتِ خلافت — Page 145

برکات خلافت 145 تھوڑا سا بھی کھائے تو اس کی جان نکل جائے پس عادت نیکی اور بدی میں تمیز نہیں وه هم بد رہنے دیتی۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كُلَّمَا نَضِعَتْ جُلُودُ لنهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا الْعَذَابَ - (النساء: ۵۷) کہ دوزخ میں رہنے والوں کی جب کھلا یاں پک جائیں گی تو ہم اور بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب محسوس کریں۔اس سے خدا تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ جس بات کی عادت ہو جاتی ہے پھر اس کا احساس نہیں رہتا اور نہ وہ پہلے کی طرح مفید رہتی ہے۔سر درد ایک بہت بڑی تکلیف ہے لیکن جب کسی کو عادت ہو جائے تو وہ بہت کم تکلیف محسوس کرتا ہے۔ایک قصہ: کسی شخص نے عادت سے احساسات کے کم ہو جانے کو ایک لطیف حکایت میں بیان کیا ہے۔وہ لکھتا ہے خدا تعالیٰ نے لوگوں کو کہا کہ تم جو کہتے ہو کہ ہماری یہ تکلیف بہت زیادہ ہے اور دوسروں کی کم ہے۔آؤ تمہیں اجازت دی جاتی ہے کہ جو مصیبت تمہیں زیادہ تکلیف دہ معلوم ہوتی ہے اس کا دوسری سے تبادلہ کر لو۔اس پر انہوں نے اپنے اپنے عیب پھینک دیئے۔اور ان کے تبادلہ میں اور لینے لگے ایک کے سر میں درد تھا اس نے وہ سر پھینک دیا اور اس کی بجائے ایک بیمارموٹا پاؤں لے لیا۔ایک بہرہ تھا اس نے وہ کان پھینک کر اندھا ہونا پسند کیا۔اسی طرح ہر ایک نے اپنی تکلیف کو دوسری اس تکلیف کے جو اس کے خیال میں کم تھی بدل لیا۔جب اپنے اپنے گھروں کو چلے تو جس نے موٹا پاؤں لیا تھا وہ اس کو کھینچتا ہے لیکن وہ اٹھتا نہیں۔وہ جس نے بہرہ پن کی بجائے اندھا پن لیا تھا وہ کہتا ہے کہ کان نہ سنتے تھے تو کیا تھا اب تو کچھ سوجھتا ہی نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔پھر انہوں نے اپنی پہلی تکلیفوں کو ہی ہلکا سمجھا اور انہیں