برکاتِ خلافت — Page 144
برکات خلافت 144 بعض آدمیوں کو ہاتھ یا کندھا ہلانے کی عادت ہوتی ہے بعض عادتا الْحَمْدُ لِلَّهِ - اَلْحَمْدُ لِلہ اور سُبْحَانَ اللهِ۔سُبْحَانَ اللهِ کہتے رہتے ہیں۔لیکن انہیں کوئی پتہ نہیں ہوتا کہ یہ کلمات ہم کیوں کہہ رہے ہیں۔لیکن یہی الْحَمْدُ لِلَّهِ اگر کوئی نیت اور ارادہ کے ماتحت کہے تو ایک دن میں فرشتہ بن جاتا ہے۔اور یہی سُبْحَانَ اللهِ اگر نیت اور ارادہ سے کہی جائے تو ایک دن میں انسان خدا رسیدہ ہو جاتا ہے۔رسول کریم یہ فرماتے ہیں كَلِمَتَان خَفِيفَان على اللسان دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر تو بڑے ہلکے معلوم ہوتے ہیں ایک منٹ میں انسان کہہ جاتا ہے۔لیکن تَقِيْلَتَانِ فِي الْمِيزَان۔جب خدا تعالیٰ انہیں ترازو میں رکھے گا تو بڑے بوجھل ہوں گے یعنی اعمال کا پلڑا ان کے بوجھ سے نیچے جھک جائے گا۔حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمنِ دو کلمے اللہ کو بہت ہی محبوب ہیں۔اللہ ان کو سن کر بہت خوش ہوتا ہے اور وہ یہ ہیں سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيْمِ اب کئی آدمی ان کو پڑھتے رہتے ہیں مگر ان کے اعمال کی میزان کھڑی کی کھڑی ہی رہتی ہے۔رسول اللہ تو فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ پڑھنے سے میزان ثقیل ہو جاتی ہے مگر یہاں ہزاروں دفعہ پڑھنے سے بھی اونچی ہی رہتی ہے کیوں؟ اس لئے کہ نیت نہیں ہوتی۔زبان سے تو کہتے ہیں کہ خدا پاک ہے۔لیکن ان کے دل میں اس کا خیال تک بھی نہیں آتا۔وہ اس کی نعمتیں یاد کر کے شکر نہیں کرتے بلکہ صرف الفاظ رٹتے ہیں۔تو کسی بات کی عادت بہت خراب کرتی ہے اور کچھ کا کچھ بنادیتی ہے۔خواہ وہ کیسی ہی اچھی کیوں نہ ہو۔اچھی عادت تو الگ رہی جب کسی خطر ناک بات کی عادت ہو جاتی ہے تو اس کا بھی ضر رمٹ جاتا ہے۔بعض لوگ جن کو عادت ہوتی ہے تولہ تولہ سنکھیا کھا لیتے ہیں۔لیکن دوسرا کوئی