برکاتِ خلافت — Page 125
برکات خلافت 125 تو خشک پڑا تھا۔اس نے سب درباریوں کو ملامت کی اور کہا کہ شرم کرو کیا حکم کی تعمیل اسی طرح ہوا کرتی ہے لیکن بجائے اس کے کہ وہ شرمندہ اور نادم ہوتے ایک دوسرے کو کہنے لگے تم نے کیوں پانی کا لوٹا نہ ڈالا۔میں تو یہ خیال کر کے بیٹھ رہا کہ باقی جو ڈالیں گے تو میرے ایک لوٹا نہ ڈالنے سے کیا نقصان ہو جائے گا تم لوگوں نے ستی کر کے میری بھی ذلت کرائی اور اس طرح ہر ایک نے اپنی سستی اور نالائقی کو دوسرے کے سر تھوپنا چاہا۔اگر وعظوں کے سننے والے بھی اسی طرح اپنے دل میں خیال کریں کہ واعظ کے وعظ کے ہم مخاطب نہیں بلکہ اور لوگ ہیں تو اس کا نتیجہ یہی ہوگا کہ سب ہی کو رے رہ جائیں گے لیکن جب ہر ایک شخص یہ سمجھے کہ جو کچھ کہا گیا ہے مجھے ہی کہا گیا ہے اور مجھے ہی اس کی تعمیل کرنی ضروری ہے تو سب کے سب نفع اٹھاسکیں گے۔پھر اگر کوئی ایسا بھی ہو جس کی سمجھ میں کوئی بات نہ آئے تو لَا يَشْقَى جَلِيْسُهُمْ کے ماتحت ہی خدا تعالیٰ اس پر بھی پردہ ڈال دے گا۔کیونکہ دوسروں کی بزرگی اور تقویٰ کی وجہ سے غریبوں کے پردے بھی ڈھک جاتے ہیں۔مثلاً اگر بادشاہ کے درباری اپنے اپنے لوٹے ڈال دیتے اور کوئی دو چار نہ بھی ڈالتے تو کیا پتہ لگنا تھا کہ انہوں نے نہیں ڈالے۔پس جو کچھ کہا جائے اس کا مخاطب ہر ایک فرد ہے بڑے سے لے کر چھوٹے تک اور کوئی یہ نہ سمجھے کہ میرا ساتھی مخاطب ہے تب جا کر نفع حاصل ہوگا۔عظیم الشان بات : اب میں بتاتا ہوں کہ وہ کیا شئے ہے جس کی طرف میں آپ لوگوں کو بلاتا ہوں اور وہ کون سا نکتہ ہے جس کی طرف آپ کو متوجہ کرتا ہوں۔سنو! وہ ایک لفظ ہے زیادہ نہیں صرف ایک ہی لفظ ہے اور وہ اللہ ہے اسی کی طرف میں