برکاتِ خلافت — Page 126
برکات خلافت 126 تم سب کو بلاتا ہوں اور اپنے نفس کو بھی اسی کی طرف بلاتا ہوں اسی کے لئے میری پکار ہے اور اسی کی طرف جانے کے لئے میں بگل بجاتا ہوں۔پس جس کو خدا تعالیٰ تو فیق دے آئے اور جس کو خدا تعالیٰ ہدایت دے وہ اسے قبول کرے۔سب سے زیادہ حسین : دنیا میں بہت سی چیزیں ہیں۔جو بڑی حسین اور بڑی خوبصورت ہیں۔لیکن جو کوئی چیز بھی دنیا میں ممکن سے ممکن حسین ہوسکتی ہے وہ خدا تعالیٰ ہی کی مخلوق ہے۔خدا تعالیٰ نے ہی اس کو حسن اور خوبی دی ہے۔اس لئے اس کے حسن کو کوئی نہیں پہنچ سکتی۔مگر باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ حسین ہے۔سب سے زیادہ پیارا ہے سب سے زیادہ خیر و برکت رکھنے والا ہے۔مگر دنیا اور نا اہل دنیا اس کو حقارت اور ناقدری کی نظر سے دیکھتی ہے۔وہ رب العلمین ہے اور اس کی عظمت اور دبدبہ کے سامنے سب چیزیں بیچ ہیں۔مگر اس سے جو سلوک دنیا کر رہی ہے وہ بہت نفرت اور حقارت کے قابل ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الاول اپنے ایک استاد کا ذکر سنایا کرتے تھے کہ انہوں نے بھوپال میں خواب میں دیکھا کہ میں شہر سے باہر ایک پل کے پاس کھڑا ہوں وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک کوڑھی پڑا ہے جس کے تمام جسم میں کیڑے پڑے ہوئے ہیں۔اس پر مکھیاں بیٹھتی ہیں اور سخت تکلیف کی حالت میں ہے۔میں نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو۔اس نے کہا میں اللہ میاں ہوں تمہارا خدا ہوں۔میں نے کہا ہم نے تو قرآن شریف میں اپنے خدا کی بڑی تعریفیں پڑھی ہیں کہ وہ ایسا خوبصورت ہے کہ اور کوئی اس کی مانند ہے ہی نہیں یہ آپ کی کیا حالت ہے۔اس نے آگے سے جواب دیا کہ تم یہ جو شکل میری دیکھ رہے ہو یہ میری اصل شکل نہیں ہے