برکاتِ خلافت — Page 76
برکات خلافت 76 76 وقت ہماری مدد کے لئے ترک آئے تھے نہیں انگریز ہی آئے۔اس وقت لوگ اپنے مذہب کو چھپاتے تھے لیکن پھر بھی ڈرتے تھے۔لیکن آج ہم علی الاعلان اپنے مذہب کا اظہار کرتے ہیں مذہبی تکالیف جو کہ پیشتر تھیں ان کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے مسجدوں میں نماز پڑھنا تو الگ رہا گھروں میں بھی خدا کا نام لینا ایک جرم سمجھا جاتا تھا۔لیکن گورنمنٹ انگلشیہ نے تو ایسی آزادی دے رکھی ہے کہ بعض جگہ اپنے مسلمان ملازموں کو دفاتر اور اسٹیشنوں کے احاطوں میں سرکاری زمین میں مساجد بنانے کی اجازت دے دی۔گوافسوس ہے کہ مسلمانوں نے اپنی بے وقوفی سے اس انعام کو ضائع کر دیا۔اور مساجد کی زمین کے وقف ہونے کے بے موقع سوال کو اٹھا کر آئندہ کے لئے گورنمنٹ کو مجبور کر دیا کہ وہ اس آزادی سے ان کو محروم کر دے اور اپنے دفاتر اور اسٹیشنوں کو مذہبی جھگڑوں کی آماجگاہ ہونے سے محفوظ رکھے۔اگر مسلمان بے فائدہ شور نہ کرتے تو آئندہ ان آسانیوں میں اور ترقی ہونے کی امید تھی اور وہ دن دور نہ تھا کہ ہر دفتر کے مسلمان بڑی آسانی سے نماز باجماعت کے ثواب عظیم کو حاصل کر سکتے۔غرض کہ گورنمنٹ برطانیہ کے ہم پر بڑے احسان ہیں اور ہم بڑے آرام اور اطمینان سے زندگی بسر کرتے اور اپنے مقاصد کو پورا کرتے ہیں۔ہمارا سب سے بڑا مقصد دین کو پھیلانا ہے اور اس مقصد کے پورا کرنے کی ہمیں ہر طرح سے آزادی ہے۔ملک کے جس گوشہ میں چاہیں تبلیغ کر سکتے ہیں اور اگر دوسرے ممالک میں تبلیغ کے لئے جائیں تو وہاں بھی برٹش گورنمنٹ ہماری مدد کرتی ہے۔ان فوائد کے مقابلہ میں اگر یہ مان بھی لیا جائے ( گو میرا یہ خیال نہیں ) کہ گورنمنٹ نے ہمارے کچھ حقوق دبائے