برکاتِ خلافت — Page 60
برکات خلافت بقیہ تقریر حضرت خلیفه لمسیح الثانی جو ۲۷ دسمبر ۱۹۱۴ء کو سالانہ جلسہ پر بعد از نماز ظہر و عصر ہوئی) 60 60 اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيْمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ مَلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْن اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّين، آمين اللہ تعالیٰ کا کیا ہی احسان ہے مسلمانوں پر اور کیا ہی فضل ہے اپنے بندوں پر کہ ایک مسلمان دنیا میں کسی کے آگے کسی معاملہ میں شرمندہ نہیں ہوسکتا۔دنیا میں ناجائز تعصب، ضد اور ہٹ ایسی چیزیں ہیں جو کہ بہت بری، ناپسندیدہ اور مکروہ ہیں مگر مسلمان کو اللہ تعالیٰ نے ایسے بلند مرتبہ پر کھڑا کیا ہے کہ دنیا کا اور کوئی انسان اس منصب تک نہیں پہنچ سکتا۔میں مضمون تو اور بیان کرنے لگا تھا۔لیکن سورۃ فاتحہ کے پڑھنے سے ایک بات یاد آگئی ہے وہ بیان کئے دیتا ہوں۔اور وہ یہ کہ انسان کسی بات کے متعلق فیصلہ کرنے میں بہت ٹھوکریں کھاتا ہے کیونکہ اس کی عقل محدود ہوتی ہے دیکھو ایک وہ زمانہ تھا جبکہ خیال کیا جاتا تھا کہ آسمان مختلف دھاتوں کے بنے ہوئے ہیں۔پھر فلسفیوں نے کہا کہ نہیں آسمان منتہا ئے نظر ہے اور کوئی مادی چیز نہیں اور خبر نہیں کہ کل کیا اور پرسوں کیا ثابت ہو۔یہی حال تمام علوم کا ہے۔جو علوم آج سے سو