برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 169

برکاتِ خلافت — Page 61

برکات خلافت 61 سال پہلے تھے وہ آج نہیں ہیں اور ہی ہیں۔پہلے کہا جاتا تھا کہ ایک سورج ہے اور باقی سارے ستارے اس سے متعلق ہیں لیکن آج کل معلوم ہوا ہے کہ کئی ستارے ایسے ہیں جو اتنی دور اور اتنے بڑے ہیں کہ اب جا کر ان کی روشنی ہم تک پہنچی ہے اور وہ سورج سے کئی گنا بڑے ہیں۔کسی زمانہ میں خیال کیا جاتا تھا اور یہ مشہور مقولہ ہے کہ قطب نما کی سوئی ہمیشہ شمال کی طرف رہتی ہے۔مگر تجربہ نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ مختلف عرصوں کے بعد اس کی سوئی مغرب کی طرف چلنا شروع ہو جاتی ہے اور ایک حد تک پہنچ کر پھر واپس لوٹنی شروع ہوتی ہے۔غرض علوم میں بھی اتنی تبدیلی ہوتی جاتی ہے کہ آج کچھ ہے تو کل کچھ اور ہو جاتا ہے۔اس میں شک نہیں کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے عقل اور فہم دیئے ہیں لیکن ایسی عقل نہیں دی جس کا فیصلہ کبھی نہ بدلے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دعا سکھائی ہے کہ چونکہ انسان ہر بات میں بہت ٹھوکر میں کھاتا ہے لہذا چاہئے کہ وہ یہ دعا نہ مانگا کرے کہ یہ چیز ہمیں مل جائے یا یہ کام ہو جائے۔بلکہ یہ دعا کیا کرے کہ الہی جو بات آپ کے نزدیک ہمارے لئے مناسب ہے وہ ہو جائے اور جو چیز آپ کے نزدیک ہمارے لئے بہتر ہے وہ مل جائے۔چونکہ اللہ تعالیٰ کو غلطی نہیں لگ سکتی اس لئے وہ جو فیصلہ کرتا ہے وہی درست اور صحیح ہوتا ہے اور یہ ہر ایک انسان کے لئے دنیا کے ہر ایک معاملہ میں فیصلہ کرنے کا آسان اور نہایت عمدہ طریق ہے۔ہمارے لئے بھی یہی آسان طریق تھا۔خلافت کا مسئلہ جس کسی کی سمجھ میں نہ آیا تھا اسے چاہئے تھا کہ دعائیں کرتا ، استخارہ کرنا شروع کر دیتا اور خدا تعالیٰ کے حضور کہتا کہ اے میرے اللہ ! اگر خلافت کا مسئلہ درست ہے تو مجھے سمجھادیجئے۔اور