برکاتِ خلافت — Page 155
برکات خلافت 155 مخلوق کی خبر گیری کرتے رہے ہیں ہم اس کے بدلہ میں ان کے رشتہ داروں کو فائدہ پہنچادیں گے۔خدا تعالیٰ نے آگے کیا لطیف بات بیان فرمائی۔جنس کو جنس سے محبت ہوتی ہے فرمایا جب یہ لوگ جنت میں پہنچیں گے تو ملائکہ بھاگتے ہوئے ان کے پاس آئیں گے چونکہ یہ لوگ بھی ملکوتی صفات رکھنے والے ہوں گے اس لئے فرشتوں کو ان سے محبت ہوئی ضروری تھی پس فرشتے ایسے لوگوں کی طرف دوڑ پڑیں گے اور کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔اس سبب سے کہ تم نے صبر کیا۔یہاں خدا تعالیٰ نے صاف طور پر ظاہر فرما دیا کہ یہ ملائکہ کے درجہ کے انسان ہوں گے ملائکہ کا درجہ کیا ہی اچھا ہے۔چھٹا درجہ : پھر انسان اس سے بھی ترقی کرتا ہے اور جب اس میں احساس زیادہ پیدا ہوتا جاتا ہے تو وہ اور بلند ہوتا جاتا ہے پھر یہی نہیں کہ وہ اپنے آپ کو بدیوں سے بچاتا ہے بلکہ وہ یہ سمجھنے لگ جاتا ہے کہ میں تو کچھ چیز ہی نہیں ہوں۔پس وہ اللہ کے ہاتھ میں اپنے آپ کو دے دیتا ہے ایسی حالت کے متعلق صوفیاء نے کہا ہے کہ انسان میں صفات الہیہ آنی شروع ہو جاتی ہیں۔اس کے لئے قرآن شریف کہتا ہے۔بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ۔(البقره:۱۱۳) حضرت ابراہیم جو کہ خدا تعالیٰ کے نبی تھے انکو یہ درجہ حاصل ہو گیا تھا چنا نچہ ان کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ۔(البقرہ:۱۳۲) جب اللہ تعالیٰ نے کہا اسلم تو حضرت ابراہیم نے کہا اسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِيْنَ۔پس ایک تو