برکاتِ خلافت — Page 154
برکات خلافت 154 اے رسول وہ چیز جو تیرے اوپر اتری حق ہے جو اس بات کو جانتا ہے بھلا وہ کس طرح ایک اس اندھے کی طرح ہو سکتا ہے جو اس کو حق نہیں سمجھتا ہماری باتوں سے اصل فائدہ تو وہی اٹھاتے ہیں جو اولوالا لباب ہوتے ہیں یعنی جو عقل و دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں۔وہ اللہ کے عہدوں کو پورا کرتے ہیں ان کو توڑتے نہیں اور ان کو خدا تعالیٰ نے جو حکم دیئے ہوتے ہیں بجالاتے ہیں اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور یوم حساب کی برائی سے انہیں ڈر ہوتا ہے۔اور وہ اپنے رب کی رضامندی چاہنے کے لئے صبر کرتے ہیں اور نمازوں کو قائم کرتے ہیں اور خرچ کرتے ہیں اس میں سے جو کہ انہیں دیا گیا ہے پوشیدہ اور ظاہر طور پر۔اور بدیوں کو نیکیوں کے ذریعے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں اور نیکیاں پھیلاتے ہیں۔پس یہی وہ لوگ ہیں جن کو جنت میں عمدہ بدلے دیئے جائیں گے۔اور وہ جنت میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔پھر ان کا اتنا بڑا درجہ ہے کہ صرف انہیں کو درجے نہیں دیئے جائیں گے بلکہ ان کے رشتہ دار جنہوں نے تھوڑی نیکیاں کی ہوں گی ان کی وجہ سے ان کے درجے بھی بلند کئے جائیں گے۔اور جہاں یہ ہوں گے وہاں ہی ان کے رشتہ دار بھی پہنچائے جائیں گے۔یہ کیوں اس لئے کہ انہوں نے لوگوں کو نیک بنانے کی کوشش کی اور خدا تعالیٰ کے بندوں کو راہ ہدایت پر لانے میں کوشاں رہے۔اس کے بدلہ میں خدا ان سے صرف یہی سلوک نہیں کرے گا کہ ان کے درجے بلند کر دے گا بلکہ ان کے رشتہ داروں کا بھی ان کی وجہ سے بلند مرتبہ کر دے گا۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جنت میں جس درجہ میں میں ہوں گا اس میں علیؓ اور فاطمہ ہوں گے۔تو خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ جس طرح یہ لوگ دنیا میں ہماری