برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 169

برکاتِ خلافت — Page 11

برکات خلافت 11 والے اتنا نہیں سمجھتے کہ خلیفہ کے لفظ کے معنی کیا ہیں اس کے یہ معنی ہیں کہ جس کا کوئی خلیفہ کہلائے اس کا کام وہ کرنے والا ہو۔اگر کوئی درزی کا کام کرتا ہے تو وہی کام کرنے والا اس کا خلیفہ ہے۔اور اگر کوئی طالب علم کسی استاد کی غیر حاضری میں اس کا کام کرتا ہے تو وہ اس کا خلیفہ ہے۔اسی طرح اگر کوئی کسی نبی کا کام کرتا ہے تو وہ اس نبی کا خلیفہ ہے۔اگر خدا نے نبی کو بادشاہت اور حکومت دی ہے۔تو خلیفہ کے پاس بھی بادشاہت ہونی چاہئے اور خدا خلیفہ کوضرور حکومت دے گا۔اور اگر نبی کے پاس ہی حکومت نہ ہو تو خلیفہ کہاں سے لائے۔آنحضرت ﷺ کو چونکہ خدا تعالیٰ نے دونوں چیزیں یعنی روحانی اور جسمانی حکومتیں دی تھیں اس لئے ان کے خلیفہ کے پاس بھی دونوں چیزیں تھیں۔لیکن اب جبکہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو حکومت نہیں دی تو اس کا خلیفہ کس سے لڑتا پھرے کہ مجھے حکومت دو۔ایسا اعتراض کرنے والے لوگوں نے خلیفہ کے لفظ پر غور نہیں کیا۔اگر کوئی شخص یہاں بیٹھے ہوئے آدمیوں کی پگڑیوں ،ٹوپیوں اور کپڑوں کو دیکھ کر یہ لکھ لے کہ آدمی وہی ہوتے ہیں جن کی پگڑیاں، ٹوپیاں اور کپڑے ان کی طرح ہوتے ہیں اور باہر جا کر کسی شخص کو اُس اپنے مقرر کردہ لباس میں نہ دیکھے تو کہے کہ یہ تو آدمی ہی نہیں ہوسکتا تو کیا وہ بیوقوف نہیں ہے؟ ضرور ہے۔اسی طرح اگر کوئی چند نبیوں کے خلیفوں کو دیکھ کر کہے کہ ایسے ہی خلیفے ہو سکتے ہیں۔انکے علاوہ اور کوئی خلیفہ نہیں ہو سکتا تو کیا اس کی بات کسی عقلمند کے نزدیک ماننے کے قابل ہے؟ ہر گز نہیں۔اس کو چاہئے کہ خلیفہ کے لفظ کو دیکھے اور اس پر غور کرے۔اس وقت خلیفہ کے لفظ کے متعلق