برکاتِ خلافت — Page 12
برکات خلافت 12 عربی علم سے ناواقفیت کی وجہ سے لوگوں کو غلطی لگی ہے۔خلیفہ اس کو کہتے ہیں (۱) جو کسی کا قائم مقام ہو (۲) خلیفہ اس کو کہتے ہیں جس کا کوئی قائم مقام ہو(۳) خلیفہ وہ جو احکام و اوامر کو جاری کرتا اور ان کی تعمیل کراتا ہے۔پھر خلیفے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک تو اصل کے مرنے کے بعد ہوتے ہیں۔اور ایک اس کی موجودگی میں بھی ہوتے ہیں۔مثلاً وائسرائے شہنشاہ کا خلیفہ ہوتا ہے۔اب اگر کوئی وائسرائے کو کہے کہ چونکہ اسے دین سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لئے یہ شہنشاہ کا خلیفہ نہیں ہوسکتا۔تو یہ اس کی بہت بڑی غلطی ہے کیونکہ وہ جس بادشاہ کا نائب ہے اسکے پاس صرف حکومت ہی ہے اس لئے وائسرائے حکومت میں ہی اس کا خلیفہ ہے نہ کہ دین میں۔تو یہ ایک موٹی بات ہے جس کو بعض لوگ نہیں سمجھے یا نہیں سمجھنا چاہتے۔دوسرا اعتراض اور اس کا جواب: پھر یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود حضرت مسیح اسرائیلی کے مثیل تھے اس لئے ان کے خلفاء بھی ایسے ہی ہونے چاہئیں جیسے کہ مسیح اسرائیلی کے ہوئے لیکن چونکہ حضرت مسیح اسرائیلی کے بعد خلافت کا سلسلہ ثابت نہیں ہے۔اس لئے حضرت مسیح موعود کے بعد بھی کوئی خلیفہ نہیں ہونا چاہئے۔اول تو یہ بات ہی بہت عجیب ہے۔ہم تو یہ مانتے ہیں کہ حضرت مسیح نے صلیب پر وفات نہیں پائی۔اور صلیب کے واقعہ کے بعد اسی سال تک زندہ رہے ہیں۔لیکن انجیل جس سے ان کے بعد کی خلافت کا سلسلہ نہیں نکلتا وہ تو ان کی صلیب کے واقعہ تک کے حالات زندگی کی تاریخ ہے۔پس اس سے خلافت کا کس طرح پتہ لگ سکتا ہے۔یہ تو ویسی ہی بات ہے کہ کوئی شخص حضرت مسیح موعود کی کتاب براہین احمدیہ پیش کر کے کہے کہ اس میں تو