برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 169

برکاتِ خلافت — Page 143

برکات خلافت 143 ایسے ہوتے ہیں جنہیں معلوم بھی نہیں ہوتا کہ کیوں ہم ایسا کرتے ہیں۔بھلا ایسے لوگوں کو اس طرح ہاتھ اٹھانے سے وہ ثواب مل سکتا ہے جو شکریہ کی نیت سے ہاتھ اٹھانے والے کو ملتا ہے۔ہرگز نہیں۔کیونکہ ثواب تو سچے دل سے الحمد للہ کہنے سے ہوتا ہے۔لوگ شکایت کرتے ہیں کہ ہم نمازیں پڑھتے ہیں روزے رکھتے ہیں، زکوۃ دیتے ہیں، حج کرتے ہیں۔لیکن ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔میں کہتا ہوں تم تو اپنی عادت پوری کرتے ہو پھر خدا تعالیٰ کو کیا ضرورت ہے کہ تمہیں ان سے فائدہ پہنچائے۔پس تم یہ باتیں سن کر یہ نہ خیال کرنا کہ یہ چھوٹا سالڈو ہے جو ہمارے سامنے رکھا گیا ہے کیونکہ گو کام ایک ہی ہوتا ہے مگر نیتوں اور ارادوں کے فرق سے نتائج میں فرق ہو جاتا ہے۔اگر تم یہ اہمیت سمجھ لو اور یہ معلوم کر لو کہ کس طرح انسان ایک کام کرتا ہے لیکن ایک نیت سے اسے اور اجر ملتا ہے اور دوسری نیت سے اور تو تم کامیاب ہو سکتے ہو۔دیکھو مدینہ میں ایک وہ لوگ آئے تھے جو خدا تعالیٰ کے لئے آنحضرت ﷺ کے ساتھ ہجرت کر کے آئے تھے گو اور لوگ بھی تو وہاں کا روبار کے لئے باہر سے آتے ہی ہوں گے۔کیا ان کو بھی کوئی ثواب مل سکتا ہے؟ نہیں۔ثواب کے مستحق تو وہی تھے جو خدا تعالیٰ کے لئے آئے تھے۔کیونکہ مدینہ میں آنا کوئی ہستی نہیں رکھتا۔صرف نیت کا اجر ہوتا ہے۔نماز کا ثواب بھی اسی لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کے خوش کرنے اور اس کی رضا چاہنے کے لئے پڑھی جاتی ہے۔روزہ بھی خدا تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے لئے رکھا جاتا ہے زکوۃ کی بھی یہی غرض ہے۔حج بھی اسی لئے کیا جاتا ہے۔لیکن اب جبکہ لوگ ان باتوں کو عادت کے طور پر کرتے ہیں تو انہیں فائدہ کیونکر ہو۔