برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 169

برکاتِ خلافت — Page 134

برکات خلافت 134 آپ نے خدا تعالیٰ کے حضور عرض کی کہ الہی میں اس لڑکے کی صحت کے لئے شفاعت کرتا ہوں۔الہام ہوا مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ تم کون ہو کہ میری اجازت کے بغیر شفاعت کرتے ہو۔دیکھو مسیح موعود کتنا بڑا انسان تھا تیرہ سوسال سے اس کی دنیا کو انتظار تھی مگر وہ بھی جب سفارش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ہوتے کون ہو کہ بلا اجازت سفارش کرو۔حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ جس وقت مجھے یہ الہام ہوا تو میں گر پڑا اور بدن پر رعشہ شروع ہو گیا قریب تھا کہ میری جان نکل جاتی لیکن جب یہ حالت ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اچھا ہم شفاعت کی اجازت دیتے ہیں شفاعت کرو۔چنانچہ آپ نے شفاعت کی اور عبدالرحیم خان اچھے ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تک زندہ ہیں۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل تھا مگر مسیح موعود جیسے انسان کو جب اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ تم کون ہو جو سفارش کرو تو اور جولوگ بڑے بنے پھرتے ہیں ان کی کیا حیثیت ہے کہ کسی کی سفارش کر سکیں۔حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کو آنحضرت ﷺ کو اذن ہو گا تب آپ سفارش کریں گے۔پھر کیسا نادان ہے وہ شخص جو سمجھتا ہے کہ فلاں میری سفارش کر سکے گا۔يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ: پھر ایک اور بات رہ جاتی ہے اور وہ یہ کہ کوئی کہہ سکتا ہے۔مانا کہ شفاعت بلا اجازت نہیں ہو سکتی لیکن بادشاہ کے جس طرح درباری ہوتے ہیں اور انکے ذریعے بادشاہ تک رسائی حاصل کر کے فائدہ اٹھایا جاتا ہے اسی طرح اللہ کے بھی درباری ہونے چاہئیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ان احمقوں کو اتنا بھی پتہ نہیں کہ دنیا کے بادشاہ کیوں درباری رکھتے ہیں وہ تو اس لئے رکھتے ہیں کہ