برکاتِ خلافت — Page 127
برکات خلافت 127 بلکہ بھوپال کے لوگوں کی نظروں میں میری یہ شکل ہے۔پس تم لوگ بھی اپنے دلوں کو ٹولو اپنے اعمال کو ، اپنی باتوں کو ، اپنے اقوال کو ، اپنی حرکات کو ، اپنی سکنات کو دیکھو کہ دنیا کی جو چیزیں تمہیں پیاری لگتی ہیں ان کے مقابلہ میں تمہارے سامنے اللہ تعالیٰ کی کیا شکل ہے۔آیا بھو پال والا خدا تو نہیں ہے یا اس کے قریب قریب ہے۔مگر خوب یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ سب بدصورتیوں ، ساری بدیوں اور تمام برائیوں سے پاک اور منزہ ہے۔آدم علیہ السلام کا قصہ: یہ دیکھ کر رونا آتا ہے کہ مسلمان آدم کا قصہ قرآن شریف میں پڑھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ کیوں اس نے شیطان کا کہا مان کر ایک دانہ کے لالچ سے ہمیں ہمیشہ کی رہنے والی جنت سے نکال دیا۔اگر ہم ہوتے تو کبھی شیطان کا کہنا نہ مانتے۔مگر وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ آدم کو ہی شیطان نے جنت سے نہیں نکالا بلکہ ہمیں بھی نکال رہا ہے۔وہ آدم کے ایک دفعہ دھوکا کھانے پر دل ہی دل میں برا کہتے ہیں مگر یہ نہیں سمجھتے کہ انہیں ہر روز شیطان دھوکا دے رہا ہے اور ان کی بغل میں بیٹھا ہے۔وہ یہ تو دریافت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آدم نے کیوں دھوکا کھایا مگر یہ نہیں جانتے کہ شیطان ہمارے پاس ہی بیٹھا ہوا ہم سے بدکاریاں کرا رہا ہے ان کو چاہئے تھا کہ بجائے آدم پر اظہار افسوس اور رنج کرنے کے اپنے نفس پر کرتے۔آدم لوگوں کو جنت سے کیا نکال سکتے تھے۔ہر ایک انسان اپنے ہاتھ سے ہی جنت سے نکلتا ہے۔آدم کی وجہ سے کوئی جنت سے نہیں نکالا جاتا۔عیسائی کہتے ہیں کہ گناہ ہمیں آدم سے ورثہ میں ملا ہے اور اسی کے سبب ہم جنت سے نکالے گئے ہیں۔لیکن قرآن شریف