برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 169

برکاتِ خلافت — Page 101

برکات خلافت 101 اور عادات اچھے ہیں وہی اعلیٰ ہے پس اگر ایسا ہو کہ مرد کے ایسے خیالات اور عادات ہیں جولڑکی کے خاندان کے خلاف ہیں تو ان کی شادی نہیں ہونی چاہئے۔مگر ایسی شرط لگانا کہ مغل ہو اور مغل بھی برلاس ہو وغیرہ وغیرہ۔یہ نہیں ہونا چاہئے تم نیکی اور تقوی کو شادی کے معاملہ میں اول دیکھو اور پھر کفو کو بھی اس حد تک دیکھو جہاں تک کہ اس کا اخلاق و عادات سے تعلق ہے اور خوب یاد رکھو کہ اپنا فرض ادا کرنے کے لئے تمہیں بہت کچھ قربانیوں کی ضرورت ہے اور گواحمدی کو غیر احمدی کی لڑکی لینی جائز ہے۔لیکن آج ہماری ضروریات چاہتی ہیں کہ جماعت اس تجویز پر عمل کرے کہ غیر احمد یوں کو نہ لڑکی دے اور نہ ان کی لڑکی لے۔حضرت مسیح موعودؓ نے جو اعلان اس کے متعلق سب سے پہلے شائع فرمایا تھا اس میں یہی حکم تھا کہ احمدیوں کی شادی آپس میں ہی ہومگر پھر یہ اجازت فرما دی کہ غیر احمدی لڑکی سے احمدی شادی کر سکتا ہے مگر اب ضرورت مجبور کرتی ہے کہ کچھ مدت کے لئے پھر اسی حکم پر عمل کیا جائے یعنی نہ غیر احمد یوں کو لڑ کیاں دی جائیں اور نہ سوائے کسی اشد ضرورت کے ان کی لڑکیاں لی جائیں۔کیونکہ اس وقت ہماری جماعت تھوڑی ہے اور یہ دقت پیش آرہی ہے کہ احمدی تو غیروں کی لڑکیوں سے شادی کر لیتے ہیں اور جو احمدی لڑکیاں ہیں وہ غیروں کے ہاں جانہیں سکتیں پس ان کے لئے رشتہ ملنے میں دقت ہوتی ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض کمز ور احمدیوں کو ابتلاء آجاتا ہے اور وہ غیر احمد یوں کو اپنی لڑکیاں دے دیتے ہیں۔مجھے بہت سے لوگ لکھتے ہیں کہ لڑکی جوان ہے آپ کہیں شادی کا انتظام کر دیں۔میں اس کے لئے جب اپنی جماعت کے لڑکوں پر نظر ڈالتا ہوں تو ان کی شادیاں غیروں