برکاتِ خلافت — Page 98
برکات خلافت 98 98 سکتا۔شرافت کے لئے نیکی اور تقویٰ ضروری ہیں۔اعلیٰ خاندان کا معیار: مذکورہ بالا آیہ کریمہ اور حدیث نبی کریم ﷺ میں اعلیٰ خاندان کا معیار اور شریف کہلانے والے خاندانوں کی وجہ بھی بتا دی گئی ہے۔دیکھوسید مسلمانوں میں سب سے زیادہ شریف قوم خیال کی جاتی ہے۔اس کی وجہ صاف ہے کہ وہ اتقی الناس یعنی آنحضرت ﷺ سے تعلق رکھتے ہیں۔ہندوؤں میں برہمنوں کا درجہ کیوں اعلیٰ ہے اور ان کا خاندان کیوں معزز سمجھا جاتا ہے اس لئے کہ وہ دوسروں کو دین سکھاتے اور خود دین پر عمل کرنے والے تھے اور یہ ان اكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمْ کے ماتحت ہی اعلیٰ اور معزز خاندان ہوا۔پھر دنیا میں جو لوگ ادنی درجہ کے کام کرتے ہیں ان کو رذیل سمجھا جاتا ہے کیونکہ ان کا تعلق ادنیٰ چیزوں سے ہوتا ہے جن کا اثر ان کے اخلاق اور عادات پر بھی پڑتا ہے اسی کے مطابق لوگوں نے قبیلوں اور خاندانوں کو اعلیٰ اور ادنیٰ قرار دیا ہے۔مثلاً موچی ایک قوم ہے۔ایک زمانہ تھا کہ اس پیشہ کوکوئی اہمیت حاصل نہ تھی اور ان کا تعلق اپنے پیشہ کے باعث ادفی لوگوں سے ہوتا تھا بڑے لوگ خود ان کی دکانوں پر نہ جاتے تھے نہ دنیا کے لحاظ سے یہ قوم بڑے سرمایہ سے کام کرتی تھی بلکہ چھوٹی چھوٹی دکانیں تھیں اس لئے یہ رذیل قوموں میں خیال کئے جانے لگے۔کیونکہ ادنیٰ درجہ کے لوگوں سے ہر وقت کے تعلق کا لازمی نتیجہ تھا کہ ان کے اخلاق پر اثر پڑتا۔اب ولایت کے بوٹ بنانے والے بڑے سرمایوں سے کام کرتے اور شریف سے شریف لوگ ان سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے ان کی حالت بدل گئی ہے اور وہ معزز خیال کئے جاتے ہیں کیونکہ حالات کے تغیر