برکاتِ خلافت — Page 52
برکات خلافت 52 عرصہ ہوا یا کچھ کم کہ میں نے رویا میں دیکھا کہ میں گاڑی میں سوار ہوں اور گاڑی ہمارے گھر کی طرف جارہی ہے کہ راستہ میں کسی نے مجھے حضرت خلیفہ مسیح کی وفات کی خبر دی تو میں نے گاڑی والے کو کہا کہ جلدی دوڑاؤ تا میں جلدی پہنچوں۔یہ رویا بھی میں نے حضرت کی وفات سے پہلے ہی بہت سے دوستوں کو سنائی تھی (جن میں سے چند کے نام یاد ہیں ، نواب محمد علی خان صاحب ،مولوی سید سرور شاہ صاحب ، شیخ یعقوب علی صاحب ، حافظ روشن علی صاحب اور غالباً ماسٹر محمد شریف صاحب بی اے پلیڈر چیف کورٹ لاہور ) کہ مجھے ایک ضروری امر کے لئے حضرت کی بیماری میں لاہور جانے کی ضرورت ہوئی اور چونکہ حضرت کی حالت نازک تھی میں نے جانا مناسب نہ سمجھا اور دوستوں سے مشورہ کیا کہ میں کیا کروں؟ اور ان کو بتایا کہ میں جانے سے اس لئے ڈرتا ہوں کہ میں نے رویا میں گاڑی میں سواری کی حالت میں حضرت کی وفات دیکھی ہے۔پس ایسا نہ ہو کہ یہ واقعہ ابھی ہو جائے پس میں نے یہ تجویز کی کہ ایک خاص آدمی بھیج کر اس ضرورت کو رفع کیا۔لیکن منشائے الہی کو کون روک سکتا ہے؟ چونکہ حضرت نواب صاحب کے مکان پر رہتے تھے میں بھی وہیں رہتا تھا اور وہیں سے جمعہ کے لئے قادیان آتا تھا۔جس دن حضور فوت ہوئے میں حسب معمول جمعہ پڑھانے قادیان آیا اور جیسا کہ میری عادت تھی نماز کے بعد بازار کے راستہ سے واپس جانے کے لئے تیار ہوا کہ اتنے میں نواب صاحب کی طرف سے پیغام آیا کہ وہ احمدیہ محلہ میں میرے منتظر ہیں اور مجھے بلاتے ہیں کیونکہ انہوں نے مجھ سے کچھ بات کرنی ہے۔میں وہاں گیا تو ان کی گاڑی تیار تھی اس میں وہ بھی بیٹھ گئے