برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 169

برکاتِ خلافت — Page 51

برکات خلافت 51 تپ سے وفات کا ہونا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔وصیت کا کرنا وہ بھی صاف ہے کیونکہ آپ نے اپنی وفات سے پہلے وصیت کر دی تھی۔تیسرے مارچ میں وصیت کا ہونا وہ بھی ایک بالکل واضح ہے کیونکہ آپ نے مارچ ہی میں وصیت کی اور مارچ ہی میں وہ شائع ہوئی۔پانچواں امر بھی صاف ہے کہ اس وصیت کا مجھ سے بھی کچھ تعلق تھا چنانچہ ایسا ہی ظاہر ہوا۔لیکن چوتھی بات کہ بدر میں دیکھ لیں۔تشریح طلب ہے کیونکہ آپ کی وصیت جہاں الفضل ، الحکم، نور میں شائع ہوئی وہاں بدر میں شائع نہیں ہوئی کیونکہ وہ اس وقت بند تھا ، پس اس کے کیا معنی ہوئے کہ بدر میں دیکھ لیں۔سواس امر کے سمجھنے کے لئے یاد رکھنا چاہئے کہ رویا اور کشوف کبھی بالکل اصل شکل میں پورے ہوتے ہیں اور کبھی وہ تعبیر طلب ہوتے ہیں اور کبھی ان کا ایک حصہ تو اصل رنگ میں ظاہر ہوتا ہے اور ایک حصہ تعبیر طلب ہوتا ہے سو یہ خواب بھی اسی طرح کی ہے اور جہاں اس رویا میں سے چارا مور بالکل صاف اور واضح طور پر پورے ہوئے ایک امرتعبیر طلب بھی تھا لیکن رویا کی صداقت پر باقی چار امور نے مہر کر دی تھی۔اور اس چوتھے امر کی تعبیر یہ تھی کہ بدر اصل میں پندرھویں رات کے چاند کو کہتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے رویا میں ایک قسم کا اخفاء رکھنے کے لئے مارچ کی چودھویں تاریخ کا نام چودھویں کی مشابہت کی وجہ سے بدر رکھا اور یہ بتایا کہ یہ واقعہ چودہ تاریخ کو ہوگا۔چنانچہ وصیت با قاعدہ طور پر جو شائع ہوئی۔یعنی اسکے امین نواب محمد علی خان صاحب نے پڑھ کر سنائی تو چودہ ۱۴ تاریخ کو ہی سنائی اور اسی تاریخ کو خلافت کا فیصلہ ہوا۔مسئلہ خلافت کے متعلق ساتویں آسمانی شہادت: اس بات کو قریباً تین چار سال کا