برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 169

برکاتِ خلافت — Page 42

برکات خلافت 42 کہ جس کے بعد متقی انسان کبھی بھی خلافت کا انکار نہیں کر سکتا کیا کوئی انسان ایسا کر سکتا ہے؟ کہ ایک واقعہ سے دو سال پہلے اس کی خبر دے اور ایسے حالات میں دے کہ جب کوئی سامان موجود نہ ہو اور وہ خبر دو سال بعد بالکل حرف بہ حرف پوری ہو اور خبر بھی ایسی ہو جو ایک قوم کے ساتھ تعلق رکھتی ہو۔دیکھو ان دونوں رویا سے کس طرح ثابت ہوتا ہے کہ کوئی واقعہ ہو گا جو بظاہر خطرناک معلوم ہوگا لیکن درحقیقت نہایت نیک نتائج کا پیدا کرنے والا ہوگا چنانچہ خلافت کا جھگڑا جو ۱۹۰۹ء میں برپا ہوا گونہایت خطرناک معلوم ہوتا تھا مگر اس کا یہ عظیم الشان فائدہ ہوا کہ آئندہ کے لئے جماعت کو خلافت کی حقیقت معلوم ہوگئی اور حضرت خلیفہ المسیح کو اس بات کا علم ہو گیا کہ کچھ لوگ خلافت کے منکر ہیں اور آپ اپنی زندگی میں برابر اس امر پر زور دیتے رہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور خلافت جماعت کے قیام کے لئے ضروری ہے اور ان نصائح سے گو بانیانِ فساد کو فائدہ نہ ہوا ہولیکن اس وقت سینکڑوں ایسے آدمی ہیں جن کو ان وعظوں سے فائدہ ہوا۔اور وہ اس وقت ٹھوکر سے اس لئے بچ گئے کہ انہوں نے مختلف فیہا مسائل کے متعلق بہت کچھ خلیفہ اول سے سنا ہوا تھا۔پھر دوسری رؤیا سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسجد ہے اس کے متولی کے خلاف کچھ لوگوں نے بغاوت کی ہے۔اب مسجد کی تعبیر جماعت لکھی ہے۔پس اس رویا سے معلوم ہوا کہ ایک جماعت کا ایک متولی ہوگا۔(متوتی اور خلیفہ بالکل ہم معنی الفاظ ہیں ) اور اسکے خلاف کچھ لوگ بغاوت کریں گے اور ان میں سے کوئی مجھے بھی ورغلانے کی کوشش