برکاتِ خلافت — Page 41
برکات خلافت 41 ہوں۔باتیں کرتے کرتے اس سے بھاگ کر الگ ہو گیا ہوں اور یہ کہا کہ اگر میں تمہارے ساتھ ملوں گا تو مجھ سے شہزادہ خفا ہو جائے گا۔اتنے میں ایک شخص سفید رنگ آیا ہے اور اس نے مجھے کہا کہ مسجد کے ساتھ تعلق رکھنے والوں کے تین درجے ہیں۔ایک وہ جو صرف نماز پڑھ لیں۔یہ لوگ بھی اچھے ہیں دوسرے وہ جو مسجد کی انجمن میں داخل ہو جائیں۔تیسرا متولی۔اس کے ساتھ ایک اور خواب بھی دیکھی لیکن اس کے یہاں بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ان دونوں رویا پر اگر کوئی شخص غور کرے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ حضرت مسیح موعود کی وفات سے بھی ایک سال اور چند ماہ پہلے اللہ تعالیٰ نے مجھے اس فتنہ خلافت کے متعلق خبر دے دی تھی اور یہ وہ زمانہ تھا کہ جب خلافت کا سوال ہی کسی کے ذہن میں نہیں آسکتا تھا اور انجمن کا کاروبار بھی ابھی نہیں چلا تھا۔بہت تھوڑی مدت اس کے قیام کو ہوئی تھی اور کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ ایک دن یہ نوزائیدہ انجمن مسیح موعود کی جانشین ہونے کا دعوی کرے گی بلکہ یہ وہ زمانہ تھا کہ احمدیوں کے دماغ میں وہم کے طور پر بھی یہ خیال نہیں آتا تھا کہ حضرت صاحب فوت ہوں گے بلکہ ہر ایک شخص با وجود اشاعت وصیت کے غالبا یہ خیال کرتا تھا کہ یہ واقعہ ہماری وفات کے بعد ہی ہوگا اور اس میں شک ہی کیا ہے کہ عاشق اپنے معشوق کی موت کا وہم بھی نہیں کر سکتا اور یہی حال جماعت احمدیہ کا تھا۔پس ایسے وقت میں خلافت کے جھگڑے کا اس وضاحت سے بتا دینا اور اس خبر کا حرف بہ حرف پورا ہونا ایک ایسا ز بر دست نشان ہے