برکاتِ خلافت — Page 40
برکات خلافت 40 نے مجھے خود بھی آگاہ کرنا پسند فرمایا۔اور یہ اس کا ایک ایسا احسان ہے جس کا شکر میں جس قدر بھی بجالا ؤں تھوڑا ہے۔اور میں چاہتا ہوں کہ ان لوگوں کے لئے جو صداقت کے قبول کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں ان شہادتوں کو بیان کر دوں جو اللہ تعالیٰ نے ان تمام فتن کے متعلق جو حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد ظاہر ہوئے میرے لئے ظاہر فرمائیں جن سے میرے دل کو تسلی اور تسکین ہوئی کہ جو راہ میں اختیار کر رہا ہوں وہی درست ہے اور بعض آئندہ کی خبریں ایسی بتائیں جن کے پورا ہونے سے میرا ایمان تازہ ہوا۔خلافت کے جھگڑا کے متعلق آسمانی شہادت : خلافت کے متعلق جس قدر جھگڑے ہیں ان کی بنیاد اسی مسئلہ پر ہے کہ مسیح موعود کا خلیفہ ہونا چاہیئے یا نہیں۔اگر یہ فیصلہ ہو جائے تو اصول مباحث سب طے ہو جاتے ہیں اور صرف ذاتیات کا پردہ رہ جاتا ہے۔پس سب سے پہلے میں اسی کے متعلق ایک آسمانی شہادت پیش کرتا ہوں جس کے بعد میں نہیں خیال کرتا کہ کوئی سعید انسان خلافت کا انکار کرے۔۸ مارچ ۱۹۰۷ ء کی بات ہے کہ رات کے وقت رویا میں مجھے ایک کاپی الہاموں کی دکھائی گئی اس کی نسبت کسی نے کہا کہ یہ حضرت صاحب کے الہاموں کی کاپی ہے اور اس میں موٹا لکھا ہوا ہے: عَسَى أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَّ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ یعنی کچھ بعید نہیں کہ تم ایک بات کو نا پسند کرو لیکن وہ تمہارے لئے خیر کا موجب ہو۔اس کے بعد نظارہ بدل گیا اور دیکھا کہ ایک مسجد ہے اس کے متولی کے برخلاف لوگوں نے ہنگامہ کیا ہے اور میں ہنگامہ کرنے والوں میں سے ایک شخص کے ساتھ باتیں کرتا