برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 169

برکاتِ خلافت — Page 19

برکات خلافت 19 کون اس کا فیصلہ کرے گا۔میں نے کہا کہ ہماری طرف سے خلافت کے متعلق کوئی جھگڑا نہیں پیدا ہو سکتا آپ کوئی آدمی پیش کریں میں اس کی بیعت کرنے کے لئے تیار ہوں۔کچھ اور لوگوں کو بھی مجھ سے محبت ہے وہ بھی اس کی بیعت کر لیں گے اور کچھ لوگ آپ سے تعلق رکھنے والے ہیں وہ بھی بیعت کر لیں گے اس طرح یہ معاملہ طے ہو جائے گا۔پھر میں نے کہا کہ یہ بحث نہیں ہونی چاہئے کہ خلیفہ ہو یا نہ ہو بلکہ اس بات پر بحث ہو سکتی ہے کہ کون خلیفہ ہو۔اس وقت پھر میں نے یہ کہا کہ آپ اپنے میں سے کوئی آدمی پیش کریں میں اس کی بیعت کرنے کے لئے تیار ہوں مگر میں یہ کبھی بھی نہیں مان سکتا کہ کوئی خلیفہ نہ ہو۔اگر تمام لوگ اس خیال کو چھوڑ دیں اور اس خیال کے صرف چند آدمی رہ جائیں تب بھی ہم کسی نہ کسی کی بیعت کرلیں گے اور ایک کو خلیفہ بنا ئیں گے۔مگر ہم یہ کبھی نہ مانیں گے کہ خلیفہ نہ ہو۔دوسرا آدمی خواہ کوئی ہو۔غیر احمد یوں کو کافر کہے یا نہ کہے۔ان کے پیچھے نماز جائز سمجھے یا نہ سمجھے۔ان سے تعلقات رکھے یا نہ رکھے۔ایک خلیفہ چاہئے تا کہ جماعت کا اتحاد قائم رہے اور ہم اس کی بیعت کرنے کے لئے تیار ہیں۔یہ گفتگو بیچ میں ہی رہی اور کوئی فیصلہ نہ ہوا۔اور تجویز ہوئی کہ اس پر مزید غور کے بعد پھر گفتگو ہوا اور دوسرے دوست بھی شامل کئے جائیں۔دوسرے دن پانچ سات آدمی مشورہ کے لئے آئے اور اس بات پر بڑی بحث ہوئی کہ خلافت جائز ہے یا نہیں۔بڑی بحث مباحثہ کے بعد جب وقت تنگ ہو گیا تو میں نے کہا اب صرف ایک ہی طریق ہے اور وہ یہ کہ جو لوگ خلیفہ کی ضرورت سمجھتے ہیں وہ اپنا ایک خلیفہ بنا کر اس کی بیعت کر لیں۔ہم ایسے لوگوں کو ایک جگہ جمع کر کے مشورہ پوچھتے ہیں۔آپ