برکاتِ خلافت — Page 18
برکات خلافت 18 تو میں نے اپنے اختلاف پر غور کیا اور بہت غور کیا۔جب میں نے یہ دیکھا کہ جماعت کا ایک حصہ عقائد میں ہم سے خلاف ہے تو میں نے کہا کہ یہ لوگ ہماری بات تو نہیں مانیں گے آؤ ہم ہی ان کی مان لیتے ہیں۔میں نے بہت غور کر کے ایک شخص کی نسبت خیال کیا کہ اگر کوئی جھگڑا پیدا ہوا تو پہلے میں اسکی بیعت کرلوں گا پھر میرے ساتھ جو ہوں گے وہ بھی کر لیں گے اور اس طرح جماعت میں اتحاد اور اتفاق قائم رہ سکے گا۔حضرت خلیفتہ المسیح کی وفات کے دن پچھلے پہر وہ شخص مجھے ملا اور میرے ساتھ سیر کو چل پڑا۔اور اس نے مجھے کہا کہ ابھی خلیفہ کی بحث نہ کی جائے۔جب باہر سے سب لوگ آجائیں گے تو اس مسئلہ کو طے کر لیا جائے گا۔میں نے کہا دو دن تک لوگ آجائیں گے اس وقت اس بات کا فیصلہ ہو جائے۔اس نے کہانہیں سات آٹھ ماہ تک یونہی کام چلے پھر دیکھا جائے گا اتنی جلدی اس کی ضرورت ہی کیا ہے۔میں نے کہا کہ اگر اس معاملہ میں میری رائے پوچھتے ہو تو میں تو یہی کہوں گا کہ خلافت کا مسئلہ نہایت ضروری ہے اور جس قدر بھی جلدی ممکن ہو سکے اس کا تصفیہ ہو جانا چاہئے۔میں نے کہا کہ کیا آپ کوئی ایسا خاص کام بتا سکتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں اگر آپ خلیفہ نہ ہوتے تو وہ رک جاتا اور جس کی وجہ سے فوراً ان کو خلیفہ بنانے کی حاجت پڑی۔اگر اس وقت کوئی ایسا خاص کام نہ ہوتے ہوئے پھر بھی ان کی ضرورت تھی تو اب بھی ہر وقت ایک خلیفہ کی ضرورت ہے۔خلیفہ کا تو یہ کام ہوتا ہے کہ جماعت میں جب کوئی نقص پیدا ہو جائے تو وہ اسے دور کر دے نہ کہ وہ مشین ہوتی ہے جو ہر وقت کام ہی کرتی رہتی ہے۔آپ کو کیا معلوم ہے کہ آج ہی جماعت میں کوئی جھگڑا پیدا ہو جائے تو پھر