برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 169

برکاتِ خلافت — Page 159

برکات خلافت 159 وضوء کے آپ نے نماز شروع کر دی اس پر آپ نے مذکورہ بالا جواب دیا کہ میری آنکھیں سوتی ہیں دل نہیں سوتا۔رسول کریم ﷺ پر ایسی کشف کی حالت طاری رہتی کہ آپ اپنے پیچھے کھڑے ہوئے نمازیوں کی حالت معلوم کر لیتے تھے جیسا کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔غرض اس درجہ میں کبھی غفلت کا وقت نہیں آسکتا۔اس درجہ کا ذکر خدا تعالیٰ نے اس طرح فرمایا ہے وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى۔(النجم: ۴۵) جو ہمارا بندہ ہو جاتا ہے وہ جو باتیں کرتا ہے وہ ہماری ہی باتیں ہوتی ہیں وہ اور کچھ نہیں کہتا۔یہ انسانیت کے کمال کا درجہ ہے۔پس میں تمہیں یہ ہدایت کرتا ہوں کہ اگر تم ترقی کرنا چاہتے ہو تو اپنے اندر احساس پیدا کرنے کی کوشش کرو۔احساس کے نہ ہونے کی وجہ سے گناہ پیدا ہوتا ہے۔دیکھو کچنیاں بھی صدقہ دیتی ہیں، خیرات کرتی ہیں۔لیکن کیا ان کو اجر مل جاتا ہے نہیں اس لئے نہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے نہیں دیتیں۔بلکہ وہ یہ بجھتی ہیں کہ اس طرح عذاب ٹل جایا کرتا ہے اس لئے وہ ایسا کرتی ہیں۔اگر ان کے صدقے خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کی نیت سے ہوں اور خدا سے ڈر کر وہ ایسا کریں تو وہ زنا ہی کیوں کریں۔رسول کریم ﷺ نے حضرت ابو بکر کی نسبت فرمایا ہے کہ یہ نمازوں کی وجہ سے بڑا نہیں ہوا بلکہ اس کی وجہ سے ہوا ہے جو کہ اس کے دل میں ہے۔نماز میں تو اور لوگ بھی پڑھتے تھے اب بھی غیر احمدی لوگ نمازیں پڑھتے ہیں لیکن کیا وہ صحابہ بلکہ ایک مومن کے درجہ کو بھی پہنچتے ہیں وہ تو کسی مومن کی جوتیوں کا تسمہ کھولنے کے بھی قابل نہیں ہیں بلکہ اکثر ان میں سے بدکار اور گندے ہیں۔پس اس کی کیا وجہ ہے کہ وہ نیک نہیں ہو سکتے۔یہی