برکاتِ خلافت — Page 8
برکات خلافت 8 مضبوط کرتا ہے۔میری طبیعت پہلے بھی بہار رہتی تھی مگر تم نے دیکھا کہ میں اس دن کے بعد کسی کسی دن ہی تندرست رہا ہوں۔اور کم ہی دن مجھ پر صحت کے گزرے ہیں۔اگر مجھے خلافت کے لینے کی خوشی تھی اور میں اس کی امید لگائے بیٹھا تھا تو چاہئے تھا کہ اس دن سے میں تندرست اور موٹا ہوتا جاتا۔اگر منکران خلافت کے خیال کے مطابق چھ سال میں اسی کے حاصل کرنے کی کوشش میں رہا ہوں تو اب جبکہ یہ حاصل ہوگئی ہے تو مجھے خوشی سے موٹا ہونا چاہیئے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔بچپن میں کبھی والدہ صاحبہ مجھے پتلا دہلا دیکھ کر گھبراتیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے کہ جب اس کو خوشی حاصل ہوگی تو موٹا ہو جائے گا اور مثال کے طور پر خواجہ صاحب کا ذکر فرماتے کہ وکالت کے امتحان کے پاس کرنے سے پہلے یہ بھی دبلے ہوتے تھے جب سنا کہ وکالت پاس کر لی ہے تو چند دنوں میں ہی موٹے ہو گئے۔تو اگر مجھے خلافت ایک حکومت مل گئی ہے اور اس کے لینے میں میری خوشی تھی تو چاہئے تھا کہ میں موٹا اور تندرست ہوتا جاتا لیکن میرے پاس بیٹھنے والے اور پاس رہنے والے جانتے ہیں کہ مجھ پر کیسے کیسے سخت دن آتے ہیں اور اپنی تکلیف کو میں ہی جانتا ہوں۔مسئلہ خلافت : خلافت کا مسئلہ کوئی پیچیدہ مسئلہ نہیں ہے۔میں نے ۱۱۲ اپریل ۱۹۱۴ء کو جو تقریر کی تھی ( یہ تقریر منصب خلافت کے نام سے چھپ چکی ہے ) اس میں قرآن شریف کی ایک آیت سے میں نے بتایا تھا کہ خلیفہ کا کیا کام ہوتا ہے۔خلیفہ کے معنی ہیں کسی کے پیچھے آکر وہی کام کرنے والا جو اس سے پہلا کیا کرتا تھا۔اس کی پہچان کے لئے جس کا کوئی خلیفہ ہوگا اسکے اصل کو دیکھنا چاہئے کہ وہ کیا کام کرتا تھا۔اللہ تعالیٰ