برکاتِ خلافت — Page 97
برکات خلافت 97 40 سمجھے جاتے تھے وہی اسلام میں شریف سمجھے جائیں گے بشرطیکہ دین کے مغز سے اچھی طرح واقف ہوں۔اس سوال و جواب میں رسول اللہ ﷺ نے تین دفعہ صحابہ کے سوال کا جواب دیا ہے لیکن غور سے دیکھ تو تینوں جواب اصل میں ایک ہی ہیں اور گو آپ صحابہ کی خواہش پر اپنے جواب کو بدلتے رہے ہیں۔مگر مطلب سب جوابوں کا ایک ہی رہا ہے۔پہلے جواب میں آپ نے فرمایا کہ متقی ہی سب سے زیادہ شریف ہے دوسرے میں یوسف کو شریف قرار دیا اور وجہ یہ بتائی کہ وہ نبی تھے اور ایک نبی کے بیٹے اور ایک کے پوتے تھے۔گویا چونکہ وہ خود متقی تھے متقی کے بیٹے اور متقی کے پوتے تھے اس لئے وہ بڑے شریف تھے۔اس جواب میں بھی شرافت کو تقوی کے ساتھ وابستہ فرمایا ہے تیسرے جواب میں پھر اسی بات کو مدنظر رکھا ہے اور فرمایا کہ جو جاہلیت میں شریف سمجھے جاتے تھے وہی اسلام میں شریف سمجھے جائیں گے بشرطیکہ دین میں تفقہ پیدا کر لیں اور تفقہ ایک ایسی چیز ہے جو نہایت اعلیٰ پایہ رکھتی ہے۔دین سیکھنا اور چیز ہے اور فقاہت فی الدین بالکل اور شئے ہے فقاہت فی الدین سے یہ مراد ہے کہ اس کے مغز اور لب سے واقف ہو جائے۔پس یہ شرط لگا کر آپ نے پھر اسی طرف اشارہ فرمایا کہ شریف وہی ہے جو دین دار ہو اور متقی ہو اور دین کے مغز سے واقف ہو۔غرض تینوں جوابوں نے نہایت احسن پیرایہ میں اصل مطلب مسلمانوں پر روشن کر دیا تا کہ وہ صرف نسبی شرافت پر ہی نہ بھولے رہیں تقرب الی اللہ کے حصول کے لئے بھی کوشاں رہیں۔ان جوابات سے ہمیں معلوم ہو گیا کہ جو شخص نیک نہیں وہ خواہ کسی قوم کا ہو شریف نہیں کہلا