برکاتِ خلافت — Page 96
برکات خلافت 96 96 کے باپ کا باپ نبی تھا۔سبحان اللہ کیا ہی لطیف طرز سے آپ ﷺ نے صحابہ کے سوال کا جواب دیا کہ ان کی بات کا جواب بھی آگیا اور ان کی دل شکنی بھی نہ ہوئی انہوں نے کہا یا رسول اللہ ہمارا یہ مطلب بھی نہیں تھا۔فرمایا اچھا تو تم لوگ قبائل عرب کے متعلق سوال کرتے ہو۔ان میں سے جو جاہلیت میں شریف سمجھے جاتے تھے اسلام میں بھی وہی شریف ہیں مگر شرط یہ ہے کہ دین سے اچھی طرح واقف ہوں۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں: " عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ قَالَ أَتْقَاهُمْ لِلَّهِ - قَالُوْا لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ قَالَ فَأَكْرَمُ النَّاسِ يُوْسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ ابْنُ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ خَلِيْلِ اللَّهِ - قَالُوْالَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ ـ قَالَ فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُوْنِي النَّاسُ مَعَادِنُ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُ هُمْ فِى الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا۔“ (بخاری کتاب الانبیاء باب قول الله تعالى لقد كان في يوسف و اخوته ايت للسائلين ) یعنی حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ حضور لوگوں میں سے شریف کون ہے فرمایا جو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ زیادہ کرتا ہے وہ زیادہ شریف ہے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ اس کے متعلق ہمارا سوال نہیں۔فرمایا پھر یوسف سب سے شریف ہے کہ وہ خود نبی تھا اس کا باپ نبی اس کا دادا نبی خلیل اللہ تھا۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمارا اس کے متعلق بھی سوال نہیں۔آپ نے فرمایا تو کیا عرب کے قبائل واقوام کے متعلق تمہارا سوال ہے اچھا تو سنولوگ مختلف قبائل میں تقسیم ہیں (یا یہ کہ لوگ کانوں کی طرح ہیں ) ان میں سے جو لوگ جاہلیت میں اچھے اور شریف