برگِ سبز

by Other Authors

Page 63 of 303

برگِ سبز — Page 63

برگ سبز سکتا؟۔66 تاریخ احمدیت جلد سترہ - صفحہ 375 ) یہ سادہ سا فقرہ پڑھ کر میں ان کی خوشی کا اندازہ کرنے لگا اور عالم تصور میں حضرت مسیح پاک علیہ السلام کی اس چھوٹی سی معمولی سی کچے پکے مکانوں اور ٹیڑھی میڑھی گلیوں والی بستی میں پہنچ گیا جسے دنیا قادیان کے نام سے جانتی ہے۔یہ بستی جس سے انتہائی اخلاص اور پیار کی یادیں وابستہ ہیں۔اس بستی کے گلی کوچوں کی مرمت کے رضا کارانہ کام میں حضرت مصلح موعود کو اپنے کندھوں پر مٹی ڈھونے کا نظارہ ابھی تک ذہن میں اس طرح تازہ ہے جیسے اسوقت بھی آنکھوں کے سامنے ہو۔یہ بستی جس میں حضرت میر محمد اسمعیل صاحب جیسا صوفی منش درویش رہتا تھا، جہاں حضرت مولانا شیر علی جیسا فرشتہ صفت انسان دست با کاراور دل با یار کی مکمل تصویر بستا تھا۔جہاں حضرت میر محمد اسحاق جیسا عاشق رسول، محدث ومفسر رہتا تھا ، وہ بستی جس میں علم معقول و منقول کا پہاڑ حضرت مولوی سرور شاہ رہتا تھا۔وہ بستی جس میں دعا اور ذکر حبیب کا متوالا حضرت مفتی محمد صادق دھونی مارے ہوئے تھا ، ہاں وہی بستی جس میں کتنے ہی غریب طبع درویش ابو ہریرہ صفت رہتے تھے جن کا اوڑھنا بچھونا عبادت ، دعا اور تبلیغ تھی۔یہ فہرست تو بہت لمبی ہو جائے گی مختصر طور پر اس بستی کا تعارف اس طرح بھی کرایا جا سکتا ہے کہ جہاں مسیح پاک علیہ السلام کی برکت سے منتخب روزگار افراد ہندوستان کے ہر کونے بلکہ بیرون ہندوستان سے بھی آکر جمع ہو گئے تھے مگر وہ سب ایک دوسرے کے ” بھائی جی“ تھے۔وہاں کوئی غیر نہیں تھا۔ہر بزرگ بابا جی یا میاں جی تھا۔جہاں ہر خاتون مجسم شرم و حیا اور زہدو تقا، ماسی جی یا خالہ جی تھی۔وہاں کوئی اونچ نیچ نہیں تھی۔وہاں عزت کا معیار علم اور تقویٰ 63